امریکی و اسرائیلی حملوں سے ایٹمی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا، ترجمان ایرانی وزارت خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
امریکی و اسرائیلی حملوں سے ایٹمی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا، ترجمان ایرانی وزارت خارجہ WhatsAppFacebookTwitter 0 25 June, 2025 سب نیوز
تہران (سب نیوز)ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایران کی جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا۔
الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے جب ان سے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر ہونے والے حملوں سے متعلق سوال کیا گیا تو اسماعیل بقائی نے کہا کہ جی ہاں، ہماری جوہری تنصیبات کو بری طرح نقصان پہنچا ہے، یہ بات یقینی ہے کیونکہ ان پر بار بار حملے کیے گئے ہیں۔
اسماعیل بقائی نے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تکنیکی معاملہ ہے جس پر ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم اور دیگر متعلقہ ادارے کام کر رہے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپنجاب سے را کے 6 سہولت کار گرفتار، مسجد اور ریلوے اسٹیشن پر حملوں کی منصوبہ بندی بے نقاب پنجاب سے را کے 6 سہولت کار گرفتار، مسجد اور ریلوے اسٹیشن پر حملوں کی منصوبہ بندی بے نقاب عاصم منیر بہترین انسان اورانکی شخصیت متاثر کن ہے،ٹرمپ کی ایک بار پھر تعریف سپریم کورٹ کا ایل ایل بی پروگرام 5سال سے کم کرکے 4سال کرنے کا حکم انسداد دہشتگردی عدالت نے عمران خان کی پیشی یقینی بنانے کیلئے وزارت قانون کو دوبارہ خط لکھ دیا رکن بلوچستان اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان کے بیٹے کا اغوا کا ڈراپ سین ہوگیا پاکستان نے مشرق وسطی میں کشیدگی کے خاتمے اور ایران کے جوہری تنازع کے پرامن حل کیلئے پانچ نکاتی تجاویز پیش کر دیںCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: نقصان پہنچا تنصیبات کو
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔