تہران :ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایران کی جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا۔
الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے جب ان سے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر ہونے والے حملوں سے متعلق سوال کیا گیا تو اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’جی ہاں، ہماری جوہری تنصیبات کو بری طرح نقصان پہنچا ہے، یہ بات یقینی ہے کیونکہ ان پر بار بار حملے کیے گئے ہیں‘۔
اسماعیل بقائی نے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک تکنیکی معاملہ ہے جس پر ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم اور دیگر متعلقہ ادارے کام کر رہے ہیں‘۔

خیال رہے کہ یہ کسی ایرانی عہدیدار کی جانب سے امریکی و اسرائیلی حملوں سے ایرانی جوہری تنصیبات کو خاطر خواہ نقصان پہنچنے کا پہلا بیان ہے۔
اس سے قبل امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ ابتدائی امریکی انٹیلی جنس اندازے کے مطابق ایران پر امریکی حملوں میں جوہری تنصیبات تباہ نہیں ہوئیں، امریکی حملوں سے ایرانی جوہری پروگرام صرف کچھ مہینوں کے لیے پیچھے ہوگیا ہے۔
تاہم امریکی صدر نے ان رپورٹس کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حملے میں ایرانی کی جوہری تنصیبات مکمل طورپر تباہ ہوچکی ہے۔
یاد رہے کہ ہفتے کے روز امریکا نے ایران اسرائیل جنگ میں کودتے ہوئے ایران کی 3 جوہری تنصیبات پر بمباری کی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ امریکی طیاروں نے فردو، نطنز اور اصفہان جوہری سائٹس کو نشانہ بنایا۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: جوہری تنصیبات تنصیبات کو ایران کی حملوں سے

پڑھیں:

علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق

ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔

متعلقہ مضامین

  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل