لاہور:

پاکستان اور بھارت کے لیے برطانیہ، یورپ اور امریکا کا دہرا معیار سامنے آگیا، پی آئی اے جہاز کو حادثہ پیش آتے ہی ہوا بازی کے بین الاقوامی ریگولیٹرز اور دیگر اداے فوری حرکت میں آکر پابندیاں عائد کر دیتے ہیں لیکن بھارت کے لیے انتہائی نرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان میں سے کوئی ادارہ حرکت میں نہیں آتا۔

بھارتی ائیر لائن پر پابندی عائد ہوتی ہے اور نہ ہی ان کے پائلٹس پر جبکہ انٹرنیشنل سول ایوی ایشن سمیت یورپ برطانیہ اور امریکا کے ایوی ایشن ریگولیٹر قومی ایئر لائن پی آئی اے کے پائلٹس کی مہارت کے گن گاتے نہیں تھکتے بلکہ دنیا کی اس وقت کی صف اول کی ایئر لائن بنانے میں قومی ایئر لائن پی آئی اے کا کردار سب کے سامنے ہے۔

پی آئی اے کو بین الاقوامی سطح پر قبول بھی کیا جاتا ہے مگر پھر بھی بھارت کے ساتھ اتنا پیار اور پاکستان کی ایئر لائن کے ساتھ اتنی نفرت بین الاقوامی ایوی ایشن ریگولیٹرز کے کردار کو مشکوک بنا رہی ہے۔

پی آئی اے اور ایوی ایشن ذرائع کے مطابق 12 جون 2025 کی صبح، ایئر انڈیا کی پرواز 171 ایک جدید ترین بوئنگ 787-8 ڈریملائنر جو لندن کے لیے روانہ ہوئی تھی، احمد آباد کے سردار ولبھ بھائی پٹیل بین الاقوامی ہوائی اڈے سے پرواز کے فوراً بعد المناک حادثے کا شکار ہوگئی۔

جہاز میں سوار تمام 242 افراد اور زمین پر موجود مزید 39 افراد جاں بحق ہوگئے۔ سانحہ نے ہوا بازی کی پوری انڈسٹری کو ہلا کر رکھ دیا جو دعویٰ کرتی ہے ’’فضائی سفر سب سے محفوظ ہے۔‘‘

ہوابازی اتنی ہی محفوظ ہوتی ہے جتنا اس کا سب سے کمزور نظام اور بدقسمتی سے یہ کمزوریاں اب ٹیکنالوجی میں نہیں بلکہ اُن انسانوں میں ہیں جو اِن جہازوں کو اُڑانے، ریگولیٹ کرنے اور مینیج کرنے کے ذمہ دار ہیں۔

ابتدائی تحقیقات اور ایئر ٹریفک کنٹرول (ATC) کے جاری کردہ لاگز کے مطابق، ایئر انڈیا 171 نے اچھے موسم میں پرواز کی تھی۔ کاغذی طور پر تجربہ کار عملے نے مبینہ طور پر متعدد اہم پروٹوکولز کو نظرانداز کیا، جن میں ٹیک آف کی روٹیشن، اسپیڈ اور پرواز کے منصوبے سے انحراف سے متعلق وارننگز شامل تھیں، جو طیارے کے سسٹمز اور ٹاور کی طرف سے موصول ہوئیں۔ پرواز کے دو منٹ کے اندر ہی طیارے نے طاقت اور کنٹرول کھو دیا۔

ماہرین کے مطابق، یہ ممکنہ طور پر کوک پٹ کے غلط فیصلوں کا نتیجہ تھا، جس میں لینڈنگ گیئرز کے بجائے فلیپس اٹھا دینا شامل ہے۔

اسی طرح کا افسوسناک سانحہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن (PIA) کی پرواز 8303 کو بھی، مئی 2020 میں کراچی ایئرپورٹ پر لینڈنگ کی کوشش کے دوران پیش آ چکا ہے۔ اُس حادثے میں 99 میں سے 97 افراد جاں بحق ہوئے۔

تحقیق میں معلوم ہوا کہ اس حادثے کی بڑی وجہ بھی انسانی غلطی تھی کیونکہ پائلٹس نے ایئر ٹریفک کنٹرول کی ہدایات کو نظر انداز کیا، بغیر لینڈنگ گیئرز کے لینڈنگ کی کوشش کی، جس سے جہاز کی گلائیڈ اسلوپ خراب ہوئی، انجنوں کو نقصان پہنچا، اور بالآخر ایک خطرناک گو اَراؤنڈ کی کوشش کی گئی جو جان لیوا ثابت ہوئی۔

دونوں حادثات میں آخری تباہی کوک پٹ میں رونما ہوئی، جب طریقہ کار سے لاپروائی، ریگولیٹرز کی خاموشی اور فضائی حفاظت کے اصولوں کو نظر انداز کیا گیا اور درجنوں بھارتی پائلٹوں کی ڈگریاں بھی جعلی نکلی مگر ان سب کے باوجود پی کے 8303 کے لیے ردعمل سخت اور فوری تھا۔

یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی (EASA)، برطانیہ اور امریکا کے ریگولیٹرز نے پی آئی اے پر غیر معینہ مدت تک یورپی فضاؤں میں داخلے پر پابندی لگا دی۔ یہ صرف ایک حادثے کا ردعمل نہیں تھا، بلکہ پاکستان کی ایئر لائن کو نقصان پہنچانا مقصود تھا اور پہنچایا بھی گیا جبکہ پی آئی اے کی مہارت کو پوری دنیا تسلیم کرتی ہے ہاں یہ ضرور ہوا کہ حفاظتی اور سیکیورٹی کی کچھ کمزوریوں اور آڈٹ رپورٹس، اُس وقت کے وزیرِ ہوا بازی کی مشہور تقریر نے ہوابازی کے نظام میں چونکا دینے والی بے ضابطگیاں ظاہر کیں۔

مشکوک پائلٹ لائسنس، پرانے سیفٹی مینولز اور ایک ناتواں ریگولیٹر لیکن تمام تر دعوؤں کے باوجود کہ ’’ہم نے سبق سیکھ لیا‘‘، یہ لگتا ہے کہ ایئر انڈیا اور بھارت کی ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (DGCA) نے کچھ نہیں سیکھا البتہ پاکستان کے سول ایوی ایشن اور قومی ایئر لائن نے پیش آنے والے حادثے کے بعد نہ صرف سسٹم اپ گریڈ کیا بلکہ سیکیورٹی کے بھی سخت ترین قوانین کی پاسداری کی جس کی تصدیق امریکا، یورپ اور برطانوی ایئر سیکیورٹی کے اداروں سمیت بین الاقوامی سول ایوی ایشن اتھارٹی کی مختلف ٹیموں کی طرف سے پاکستان کے دورے مکمل کرنے کے بعد اپنی رپورٹ میں اقدامات پر مطمئن ہونے کا اظہار بھی کیا۔

پاکستان ایئر پورٹ اتھارٹی کے ذرائع کے مطابق دوسری طرف گزشتہ دو سالوں میں، خصوصاً نجکاری کے بعد، ایئر انڈیا کے پائلٹس نے تھکن، غیر حقیقی ڈیوٹی شیڈولز، اور دباؤ کے تحت پرواز کرنے کی شکایات کیں۔ حالیہ افشاں ہونے والی اندرونی میموز ظاہر کرتی ہیں کہ جہازوں کو اکثر Minimum Equipment List (MEL) کے تحت روانہ کیا گیا یعنی ایسے تکنیکی نقائص کے ساتھ جو بظاہر قانوناً قابلِ قبول تھے، لیکن سخت رسک مینجمنٹ پروٹوکول کے تحت۔ فرق یہ ہے کہ بھارتی ایئر لائنز نے MEL کو معمول کے طریقہ کار کے طور پر اپنایا ہوا ہے، نہ کہ استثنائی حالات کے تحت۔

مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ بھارتی سول ایوی ایشن اتھارٹی (CAA) نے وہسل بلوورز کی شکایات پر سنجیدہ کارروائی نہیں کی۔ امریکا کی FAA، یورپ کی EASA، اور اب پاکستان CAA کی طرح بھارت کے ریگولیٹرز کے پاس نہ تو آزاد آڈٹ ادارے ہیں اور نہ شفاف تحقیقات کا کوئی مؤثر نظام۔ DGCA کی تحقیقات اکثر خفیہ رکھی جاتی ہیں اور شاذ و نادر ہی سخت اقدامات سامنے آتے ہیں، یہ ناقص ریگولیٹری کلچر صرف بھارت کا مسئلہ نہیں ہے۔ جب ایک جہاز کسی بھی بین الاقوامی ایئرپورٹ سے پرواز کرتا ہے تو وہ دنیا کے مشترکہ آسمان میں داخل ہوتا ہے۔

اگر ایئر انڈیا 171 یورپ کے فضائی حدود میں یا لندن میں، جو اس کی منزل تھی گر جاتا، تو اس کے جغرافیائی اور سیاسی اثرات شدید ہوتے۔ اسی لیے اب ذمہ داری عالمی ہوابازی کے ریگولیٹرز پر ہے۔ EASA، برطانیہ کا محکمۂ نقل و حمل، اور امریکا کا TSA فوری طور پر ایئر انڈیا اور بھارت کے تمام ایئر لائنز پر سیفٹی آڈٹ شروع کریں۔ اگر ان آڈٹس میں نظامی ناکامیاں سامنے آئیں، جیسے PIA کے ساتھ ہوا، تو بھارتی ایئرلائنز کو یورپی و امریکی فضاؤں میں اڑنے سے روکنا نہ صرف جائز بلکہ ضروری ہوگا۔

واضح رہے، یہ بھارتی ہوا بازی کے خلاف نہیں کیونکہ بھارت نے عالمی معیار کے پائلٹس پیدا کیے ہیں اور پیچیدہ فضائی نظاموں کو بخوبی سنبھالا ہے لیکن جب اُس کی سب سے بڑی ایئر لائن 280 سے زائد افراد کی جان ایک ایسے حادثے میں گنوا بیٹھے جو مکمل طور پر ایوی ایشن کے اصولوں پر مکمل عمل درآمد مناسب نگرانی اور حفاظتی اقدامات کو مدنظر نہیں رکھا گیا اور نہ ہی اس کو چیک کرنے والوں نے روکا تو دنیا کو یہ خطرہ برداشت کرنا ہوگا۔

ایئر انڈیا 171 کا سانحہ صرف جانوں کا نقصان نہیں یہ وہ لاپروائیاں تھیں جنہیں سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ اگر ہم اب بھی سنجیدگی سے ردعمل نہ دے پائے، تو اگلا حادثہ ’’ہوگا یا نہیں‘‘ اس کا پتہ نہیں بلکہ ’’کہاں ہوگا‘‘۔

دوسری جانب قومی ایئر لائن پی آئی اے کی انتظامیہ اور پاکستان ایئر پورٹ اتھارٹی کو پورا یقین ہے کہ جلد ہی فرانس کی طرح برطانوی اور یورپ کے دیگر ممالک بھی پابندی ختم کر دیں گے اور پی آئی اے ایک بار پھر یورپ اور دیگر ممالک کی فضاؤں میں اڑتی نظر آئے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: قومی ایئر لائن سول ایوی ایشن بین الاقوامی ایئر انڈیا اور امریکا کے پائلٹس پی ا ئی اے اور بھارت ہوا بازی کے مطابق بھارت کے کے ساتھ بازی کے کے تحت کے لیے

پڑھیں:

امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے

اسکردو (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 02 جون 2026ء ) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اسکردو کے مین بازار میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابی مہم میں آپ کے پاس آیا تھا اور جی بی کی ہر تحصیل میں گیا اور پورے جی بی کا دورہ کیا اور اسی وقت سے کہہ سکتا ہوں کہ جتنا جی بی میں نے دیکھا ہے وہ کسی سیاستدان نے نہیں دیکھا۔

ساری جماعتوں کے دورے ملا کر بھی ہمارے دوروں کے مقابلے میں کم ہیں۔ ہمارا صرف سیاسی رشتہ نہیں بلکہ نسلوں کا ساتھ ہے۔ میں یہ مہم بھی گزشتہ انتخابی مہم کی طرح کرنا چاہتا تھا۔ گزشتہ انتخابات میں خوشی کو ماحول تھا لیکن اب ہم سب کے لئے غم کا ماحول ہے۔ ایران میں جو شہادتیں ہوئیں ہیں، بچیوں کو شہید کیا ہے یہ غم کا ماحول ہے۔

(جاری ہے)

جس طرح رمضان میں آیتہ اللہ خامنئی کو ان کی نواسی کے شہید کیا گیا وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی امن پسند اور جنگ کے خلاف ہے۔ یہ کہانی ایران تک نہیں فلسطین اور لبنا ن میں بھی بے گنا ہ لوگوں شہید کیا گیا۔ فیلڈ مارشل امن کی جو کوشش کر رہے ہیں ہیں ہم سب دعاگو ہیں کہ یہ کوشش کامیاب ہو ۔ پوری مسلم دنیا اور دنیا بھر کے نوجوان اس جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اس جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بے تحاشہ بڑھ گئی ہے اس لئے ہم اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی سیاست باقی جماعتوں سے مختلف ہے۔ ہم پسماندہ طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کو حقوق دیتے ہیں اور غریب کا سوچتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کی ترقی پسماندہ طبقے کی ترقی سے ہے۔ باقی جماعتیں امیروں کو مزید امیر بنانے کی پالیسی اختیار کرتے ہیں اور اسے نام ترقی کا دیا جاتا ہے۔ کسانوں، مزدوروں، نوجوانوں کی ترقی اصل ترقی ہے۔

قائد عوام شہید ذوالفقار بھٹو نے کسانوں کو زمین مہیا کی۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے لئے عوام کا نعرہ تھا “بینظیر آئے گی، روزگار لائے گی”۔ صدر زرداری نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں بی آئی ایس پی بنا کر روٹی، کپڑا اور مکان کو عملی شکل دی۔ بطور وزیرخارجہ مجھ سے دوسرے ممالک پوچھتے تھے کہ ہم بی آئی ایس پی کے ذریعے اپنے غریبوں کی بھی مدد کرنا چاہتے ہیں۔

بدقسمتی اس ملک کی یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ایسی ہیں کہ وہ سوچتی ہیں کہ اپنے امیر دوستوں کے لئے مراعات کیسے دیں اور وہ بی آئی ایس پی کی غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بی آئی ایس پی کی مدد پورے ملک کے غریب عوام کو ملتی ہے۔ ماﺅوں کی دعاﺅں کی وجہ سے ان کی بی آئی ایس پی کوختم کرنے کی سازش ناکام ہوگی۔ وزیراعظم آنے والے بجٹ میں بی آئی ایس پی میں اضافے کا اعلان کریں گے۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی نے ملک کی دفاعی صلاحیت مضبوط کی ہے۔ اس وقت پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے اور کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا۔ یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے تحفہ دیا ہے۔ وہ گڑھی خدا بخش سے پاکستان کا دفاع کر رہے ہیں۔ شہید بی بی نے میزائل ٹیکنالوجی دی کہ وہ اس بم کو لے کر دشمن تک پہنچ سکتے ہیں۔

آج پاکستان کا دفاع اسی وجہ سے ناقابل تسخیر ہے۔ اس کے بعد مشرف کا دور گزرا کہ جب دوسرے ممالک کو Bases بنانے کی اجازت دی گئی۔ صدر زرداری نے سلالہ واقعے کے بعد سارے Bases کو بند کیا۔ جب حال ہی میں مختلف ممالک میں بم دھماکے ہو رہے تھے تو میں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بم اور شہید بی بی کا ذکر کروں گا تو صدر زرداری کو بھی خراج تحسین پیش کروں گا۔

ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ہر لحاظ سے مضبوط ہو صرف پی پی پی ہی معاشی طور پر یہ کام کر سکتی ہے۔ یہ تین نسلوں کی جدوجہد ہے۔ شہید ذوالفقارعلی بھٹو نے سرداری نظام ختم کیا۔ FCR کا خاتمہ کیا۔ قائدعوام نے بلتستان کی سرزمین پر کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا کہ گھاس کھائیں گے لیکن ایٹم بم بنائیں گے۔ گندم اور پٹرول پر سبسیڈی قائدعوام نے دی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ سب کچھ جدوجہد سے حاصل کیا۔

جی بی کو پہلے ناردرن ایریا کہتے تھے صدر زرداری نے جی بی کا نام دیا۔ اب ہم نے مل کر جدوجہد کرکے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کرنا ہے۔ ہمیں تین اصولوں حق حاکمیت ، حق ملکیت اور حق روزگار پر عمل کرنا ہوگا۔ یہ تب ہوگا جب اٹھارہویں ترمیم کے مطابق دیگر صوبوں کی طرح حقوق جی بی کو بھی ملیں۔آپ کے پہاڑوں کے نیچے جو وسائل ہیں ان پر حق جی بی کے عوام کا ہے۔

وسائل پر پہلا حق جی بی کے عوام ہے اور اگر یہ حق ملکیت مل جائے تو پاکستان کی ترقی ہوگی جس طرح تھر کے کوئلے سے پورا پاکستان مستفید ہو رہا ہے۔ شہید بی بی نوے کی دہائی میں یہ منصوبہ شروع کرنا چاہتی تھیں لیکن اس کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ ہم نے یہ منصوبہ 2015 میں شروع کیا اور اس منصوبے کے سربراہ سندھ کے وزیراعلیٰ کو بنایا۔ اس منصوبے میں روزگار کا 80 فیصد تھر کے عوام کو دیا گیا۔

تھر کے منصوبے سے تھرکے عوام کو مفت بجلی دیتے ہیں۔ ہم نے تھر کے عوام کو تھر کول منصوبے میں ان کا شئیر دینا چاہا لیکن ان لوگوں نے پیسے لے لئے لیکن آپ کو اپنے وسائل میں شیئر لینا چاہیے۔ CPEC کا سب سے بڑا منصوبہ تھرکو ل کا ہے۔ جب آپ کو حق ملکیت ملے گا تو آپ وسائل کے حصہ دار ہوں گے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم ملازمتوں کے مواقع پیدا کریں لیکن دوسرے لوگ غریبوں کا روزگار چھینتے ہیں۔

یہ سمجھتے ہیں کہ امیر کو اور امیر بنائیں گے تو وہ نوکریاں دیں گے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ ہماری سیاست عوام دوست اور غریب دوست ہے جبکہ دیگر لوگوں کی سیاست غریب دشمن اور امیردوست ہوتی ہے۔ اس لئے تیر پر مہر لگا کر غریب دوست حکومت بنائیں۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا میں جانتا ہوں کہ آپ کے ہاں بارشوں اور سیلاب سے بہت نقصان ہوتا ہے۔

سندھ میں بھی 2022 میں سیلاب آیا اور دو تہائی سندھ پانی کے نیچے چلا گیا۔ اس وقت سارے غریب لوگ مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں گھر بنا کر دئیے جائیں۔ یہ پاکستان کی پہلی حکومت جس نے غریب لوگوں کو گھر بنا کر دئیے۔ میں کسی صوبے سے نہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرتا ہوں اور 20 لاکھ گھر بنانے بنانے کا منصوبہ دنیا میں سب سے بڑا منصوبہ ہے اور یہ گھر موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔

خواتین کو ان گھروں کا مالک بنایا اور زمین کی یہ منتقلی قائد عوام کے بعد سب سے بڑا منصوبہ ہے کیونکہ یہ زمین بھی خواتین کے نام کر رہے ہیں۔ 7 جون کو تیر پر مہر لگائی تو اسی طرح جی بی کی خواتین کو بھی گھر بنا کر دیں گے۔ ہم غریب اور عوام دوست ہیں اسی لئے بی آئی ایس پی اور گھروں کا منصوبہ دیتے ہیں ۔ سندھ میں ہسپتال بنائے، سندھ کا این آئی سی وی ڈی، این آئی سی ایچ، ایس آئی یوٹی اور ڈاﺅ میڈیکل کالج سے لے کر گمبٹ تک دل ، گردے، کینسر اور جگر کا علاج پورے پاکستان کے عوام کو مفت مہیا کرتے ہیں۔

دیگر صوبے ہسپتالوں کی نجکاری کرتے ہیں تاکہ ان کے امیر دوستوں کو فائدہ ہو۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو علاج سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 7جون کو انشااللہ جی بی کے عوام باہر نکلیں گے اور تیر پر مہر لگاکر پیپلزپارٹی کی حکومت بنائیں گے تاکہ حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار، مفت علاج کے ادارے اور گھر بنانے کا منصوبہ شروع ہو سکے۔

ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے جی بی کے عوام کی خدمت کریں گے اور آپ کو معاشی طور پر مضبوط کریں گے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں انہوں نے ڈاکٹر مبشر حسن کو ایک تحقیق کرنے کو کہا تھا جس سے 70 کی دہائی میں یہ بات سامنے آئی کہ جی بی میں ہم 50ہزار میگا واٹ بجلی بنا سکتے ہیں جو ہم بنا کر دکھائیں گے۔ یہ منصوبہ اسلام آباد میں کوئی بیوروکریٹ نہیں ہم اور آپ مل کر بنائیں گے اور اسلام آباد کو بجلی بیچیں گے۔

7تاریخ کو اس صوبے کے عوام کو سوچنا ہے کہ آپس میں لڑ کر کسی اور کو فائدہ نہ پہنچائیں۔ پی پی پی کو بھاری اکثریت ملتی ہے تو ہم مسائل حل کر سکتے ہیں۔ ہم نے سکردو کو وزیراعلی اور گورنر دیا۔ یہ صرف مہدی شاہ کی عزت نہیں بلکہ سکردو کے عوام کی عزت ہے۔ اب میدان میں نئی نسل آگئی ہے اور آپ کے ووٹ اور ساتھ کی وجہ سے توقیر شاہ کو سکردو 1 سے جتوائیں گے۔

آپ سکردو 2 میں محمد علی شاہ کو ووٹ دیںسکردو 3 سے فدا محمد ناشاد کو جتوانا ہے۔ اسکردو4 میں راجہ ناصر علی خان کو منتخب کرنا ہے۔ خرمنگ کے اقبال حسین کو جتوانا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں شگر سے عمران ندیم کو نہیں جیتنے دیا گیا تھا لیکن اس مرتبہ انہیں جتوانا ہے اور گھانچے1 سے ڈاکٹر عاشق حسین کو منتخب کرنا ہے۔ گھانچے 2 میں میری امیدوار آمنہ انصاری ہیں اور گھانچے 3 میں انجینئر محمد اسماعیل ہیں۔

میں چاہتا ہوں کہ انجینئر محمد اسماعیل کے حلقے سے جی بی ہاﺅسنگ اینی شئیٹو شروع کروں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تمام امیدواروں سے ہاتھ کھڑے کروا کر وعدہ لیا کہ وہ منتخب ہوکر عوام کی خدمت کریں گے۔ انہوں نے عوام سے بھی وعدہ لیا کہ 7جون کو تیرپر مہر لگائیں تاکہ شہید قائد عوام اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کیا جا سکے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ آصفہ بی بی کو لے کر سکردو آئے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ جس طرح بلتستان کے عوام نے انہیں کبھی مایو س نہیں کیا اسی طرح بی بی آصفہ کو بھی مایوس نہیں کریں گے۔ خطاب کے آخر میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوام کے ساتھ مل کر پارٹی کے لئے نعرے لگوائے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار