data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی ( اسپورٹس ڈیسک)پاکستان کرکٹ بورڈ کے زیر اہتمام پی سی بی انٹر ڈسٹرکٹ سینئر تین روزہ کرکٹ ٹورنامنٹ( کراچی ریجن ) بروز جمعہ 27 جون سے کراچی کے مختلف گراؤنڈز پر شروع ہو رہا ہے. پروگرام کے مطابق میچز یو بی ایل اسپورٹس کمپلیکس، نیشنل بینک اسپورٹس کمپلیکس ، کے سی سی اے اسٹیڈیم اور بقائی کرکٹ گراؤنڈ پرکھیلے جائیں گے جس میں کراچی ریجن کی سات زونز کی منتخب ٹیمیں شرکت کر رہی ہیں۔ جس کو ہیڈ کوچیز کراچی ریجن نے ٹرائلز کے بعد زونل کوچز اور زونز کے صدور کے مشورے سے ٹیموں کو منتخب کیا۔زون ایک : المان شفیق، فرمان احمد، ملک زین العابدین، فضل سبحان، طحہ محمود، بہادر علی، زبیر دلاور، محمد رضا، رحمان غنی، محمد عمر بن ذاھد، عمار اقبال، احمد خان، زبیر خان، عمر گلاب، قمر عباس۔اسٹینڈ بائی : امیر رضا شکیل، کاشف رضا، زین الدین، وہاب ظفر، محمد قاسم۔ ( کوچ اویس احمد رحما نی ) زون دو : طارق بخت، شاہد علی، حسن جعفری، ایس ایم فہد، وہاج ریاض، حمزہ سرور، ایم اویس علی خان، علی حسن، بسیر شاہ، تیمور مصطفی، سید ریحان علی شاہ، اسد اختر، محمد عمر اعجاز، علی شنواری، ایم سہیل خان۔ اسٹینڈ بائی: سید شہیر علی، عمر فاروق، شعیب امین، منیر الرحمان، محمود جمشید۔ ( کوچ نعیم طیب )۔ زون تین: شہزر محمد، سمیع آفریدی، وقاص اکبر، عبداللہ عمر، عبیس اللہ، عدیل حسین، باسط غوری، سید انس شاہ، فہد امین، حسان عاصم، محمد اسماعیل، شاہزیب، اسرار احمد اعوان، عبدل رافع، فہد انصاری۔ اسٹینڈ بائی: سلمان سرور، فضل رحیم، نعمان علی، رعنا رافع، سنی نظیر۔ ( کوچ عرفان الدین )زون چار: یاسر مشتاق، ارسلان فرزند، عمران شاہ، احد علی، احسن اللہ، ایس عبداللہ رفاہی، دانش رفیق، عادل علی، محمد افضل، افنان خان، طلحہ احسن، حمزہ قریشی، محمد آصف، اسد اللہ حمزہ، حمزہ شاہ آفریدی۔ اسٹینڈ بائی: نعمت خان، ایم حنیف، صالح خان، افتخار احمد، کر یم اللہ۔ ( کوچ واجد علی )، زون پانچ: سید شاہ رضا، محمد حسین، شعیب خان، محمد آصف، وسیم احمد، ایم حسان اقبال، محمد علی بٹ، محمد ابیس، سا حل اقبال، محمد دانیال، حسان علی خان، معظم ملک، سیف اللہ خان، فواد شاہ، نبیل واحد۔ اسٹینڈ بائی: محمد اسماعیل، عبدالرحمان۔شہباز احمد، طلحہ فرید، وطن دوست۔ ( کوچ فراز احمد خان)، زون چھ : ارباز خان، حبیب اللہ، عبداللہ عالم، عبدل رحمان نیا زی، محمد عثمان، علی اسحاق، حیدر عباس، فرحان خان، ذیشان ضمیر، محمد مکی، معاذ خرم، سیف اللہ، رضا الحسن، ضیاء اللہ، عاشر احمد۔ اسٹینڈ بائی : علی عمر، عباد خان، اویس رحیم، طیب حسین، غلام اشرف۔( کوچ سعید بن ناصر )شامل ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسٹینڈ بائی

پڑھیں:

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج

طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔

اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔

اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج