اسلام آباد:صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے نئے اسلامی سال 1447 ہجری کے آغاز پر قوم کو مبارک باد دیتے ہوئے دعا کی کہ یہ سال ملک کے لیے بہترین ثابت ہو، کشمیر اور فلسطین کو آزادی حاصل ہو۔

صدر کی جانب سے جاری اعلامیے میں صدر مملکت نے اسلامی سال کے آغاز پر پاکستانی قوم اور امتِ مسلمہ کو مبارک باد دیتے ہوئے دعا کی کہ یہ سال وطن عزیز میں امن، خوشحالی اور استحکام کا باعث بنے۔

صدر مملکت نے کہا کہ یہ مہینہ اسلامی ہجری سال کے حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے اور اللہ تعالی نے حرمت والے مہینے میں ہر قسم کے انتشارا ور لڑائی جھگڑے سے منع فرما یا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس مہینے نیکی اور بندگی کے کاموں میں مشغول رہنے کی تلقین فرمائی۔

صدر مملکت نے کہا کہ یہ مقدس مہینہ ہمیں تلقین کرتا ہے کہ ہم اپنی انفرادی زندگی کو بھی اجتماعی شعور سے جوڑیں۔ ہمیں عدل و انصاف، حسنِ سلوک، ایثار، رواداری اور برداشت جیسے اوصاف کو اپنی زندگی میں شامل کریں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے معاشرتی، معاشی و سماجی چیلنجز کے مقابلے کے لیے اتحاد، اخوت اور قومی یکجہتی جیسے اصولوں کو اپنانا ہوگا، محرم ہمیں امام حسینؓ کے نقش قدم پر چلنے کا درس دیتا ہے جبکہ جذبۂ کربلا ہمیں فرقہ واریت ، انتشاراور مایوسی سے نکالتا ہے۔

آصف زرداری نے کہا کہ دعا ہے یہ سال پاکستان کے لیے خیر، امن اور ترقی کا پیغام لائے، اللہ پاکستان کو ہر آفت، مصیبت اور انتشار سے محفوظ رکھے اور یہ سال ملت اسلامیہ اور انسانیت کے لیے خوشحالی کا سال بنے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ محرم الحرام کا مقدس مہینہ ہمیں ہمارے اسلاف کی بے مثال قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جو انہوں نے حق کے راستے میں صبر واستقامت، حق گوئی اور اعلیٰ اقدار کے فروغ کی خاطر پیش کیں۔ خصوصاً واقعہ کربلا اور شہادت حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ جو کہ حقیقت میں اسلام کی فتح، اسلامی اصولوں کی سر بلندی اور اس قربانی کاثمر ہے جس کی بدولت ہماری تاریخ میں ایسے جان نثار پیدا ہوتے رہے جنہوں نے ہمیشہ حق اور سچ کا ساتھ دیا۔

انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں، جب امت مسلمہ گو ناگوں چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، ان واقعات میں ہمارے لیے وہ پیغام ہے جو معاشرتی ہم آہنگی، بین المسالک رواداری، اور خدمت انسانیت کے لیے رہنما اصول فراہم کرتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں چاہیے کہ ان دُور رَس تعلیمات کو اپنی انفرادی واجتماعی زندگی کا حصہ بنائیں، محبت، اخوت اور شعور کی شمع کو روشن کریں۔ آئیے! اس نئے ہجری سال کے آغاز پر ہم یہ عہد کریں کہ ہم اپنے اسلاف کی روایات کو زندہ رکھتے ہوئے ایک مہذب، باکردار اور باشعور قوم کی صورت میں ابھریں گے۔ ہم ایک ایسا پاکیزہ معاشرہ تشکیل دیں گے جو فلاح انسانیت کا مظہر ہو۔

شہباز شریف نے کہا کہ میں اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہوں کہ وہ آئندہ سال کو پاکستان سمیت دنیا بھر کیلئے امن و استحکام کا سال بنائے.

کشمیر اور فلسطین میں نہتے مسلمانوں پر جاری ظلم کو ہمیشہ کیلئے رکنے اور خطے میں کشیدگی کے مکمل خاتمے کا سال بنائے۔

انہوں نے کہا کہ میری اللہ رب العزت سے یہ بھی دعا ہے کہ وہ ہمیں قومی وحدت، باہمی احترام، اور اخوت کی روش اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ میری دعا ہے کہ پروردگار ہمارے ریاستی و قومی اداروں کو مزید مضبوط، مؤثر، اور عوام کی خدمت کا حقیقی نمونہ بنائے۔

وزیراعظم نے دعا کی کہ اللہ ہمارے نوجوانوں کو علم و ہنر میں مہارت اور کردار میں بلندی عطا فرمائے، اور پاکستان کو اقوام عالم میں ایک باوقار، پُر امن اور ترقی یافتہ ریاست کے طور پر سرفراز فرمائے۔ آمین ثم آمین

Post Views: 1

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: صدر مملکت نے کہا کہ انہوں نے یہ سال کے لیے

پڑھیں:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔

یکم جون کو جنوبی لبنان کے شہر صور میں ایک اسپتال کے قریب اسرائیلی حملے کے مقام پر امدادی کارکن اور ریسکیو اہلکار جمع ہیں۔

یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔

ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ

جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ

متعلقہ مضامین

  • معاون خصوصی / وزیر مملکت نے اپنی وزارت میں پندرہ لاکھ کے مساج کا بل جمع کروادیا
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف