مذہبی یگانگت کے ذریعے دشمن کی سازش ناکام بنادیں گے، علامہ ڈاکٹر محمد حسین اکبر
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
علامہ ڈاکٹر محمد حسین اکبر کا کہنا ہے کہ عالم اسلام کی یگانگت کو بروئے کار لا کر دشمن کی ہر سازش ناکام بنادی جائے گی۔
اسلامی نظریاتی کونسل اجلاس کے موقعے پر بین المذاہب ہم آہنگی سے متعلق وی نیوز کے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج پریس کانفرنس میں تمام مکاتیب فکر کے علما شریک ہوئے اور عالم کفر کے مقابلے کے لیے عملی طور پر یکجہتی کا مظاہرہ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہود و ہنود جو ہماری جڑوں کو کھوکھلا کرنا چاہتے ہیں ان سے مقابلے کے لیے عالم اسلام کی یگانگت کو بروئے کار لا کر دشمن کی سازش کو ناکام بنائیں گے۔
علامہ ڈاکٹر محمد حسین اکبر نے کہا کہ کل سے محرم الحرام کا آغاز ہو رہا ہے جس میں امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کی یاد میں صف عزا بچھائی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ کانفرنسز منعقد کی جائیں گی۔ کربلا انسانیت کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ در حسین پر یہ نہیں دیکھا جاتا کہ آنے والا مسلمان ہے ہندو ہے، سکھ یا عیسائی ہے، یہ پوری انسانیت کے لیے کھلا ہے۔
علامہ ڈاکٹر محمد حسین اکبر نے کہا کہ آج کا یہ اجتماع چونکہ مسالک کے حوالے سے تھا اور تمام مسالک اپنے اپنے طور پر یاد حسین مناتے ہیں، لہٰذا تمام امت کو پیغام دیا گیا کہ وطن عزیز کی سالمیت اور عالم اسلام کی وحدت کے لیے ہم سب ایک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج کے اس اجتماع میں تمام مکاتب فکر کے علما اکٹھے تھے اور عوام کے لیے پیغام تھا کہ اگر تمام مسالک کے علما اکٹھے ہیں تو ہمیں بھی وحدت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
در حسین صف عزا عالم اسلام علامہ ڈاکٹر محمد حسین اکب غم حسین کربلا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: عالم اسلام علامہ ڈاکٹر محمد حسین اکب کربلا علامہ ڈاکٹر محمد حسین اکبر عالم اسلام نے کہا کہ تھا کہ
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔