ترقیاتی منصوبوں کی سخت سکروٹنی کا فیصلہ، نوٹیفکیشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
طاہر جمیل:وزیراعلیٰ پنجاب کے ویژن کے تحت ترقیاتی منصوبوں کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے منصوبہ بندی کے آغاز پر ہی سخت سکروٹنی کا فیصلہ کیا گیا، سیکرٹری ہاؤسنگ نورالامین مینگل نےنوٹیفکیشن جاری کر دیا۔
تمام اتھارٹیز کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری سے پہلے محکمہ ہاؤسنگ میں نظر ثانی ہو گی,پراجیکٹس کے پی سی ون کی نظر ثانی کے لیے خصوصی جائزہ کمیٹی تشکیل دی گئی،چیف انجینئر ،پبلک ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کمیٹی کے کنوینر مقرر کیا گیا۔
مجوزہ لیوی سے فرنس آئل کی سیل میں واضح کمی ہوگی؛ معاشی تھنک ٹینک
نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی پلاننگ کمیشن پاکستان ،پی اینڈ ڈی کی گائیڈلائنز کے اطلاق کو یقینی بنائےگی، ترقیاتی منصوبوں کے معیار کی سخت سکروٹنی کو یقینی بنایا جائے گا، پراجیکٹ کی تخمینہ لاگت اور مدت تکمیل پر بھی نظر ثانی کی جاسکے گی، ضرورت کے مطابق پی سی ون میں تبدیلی اور بہتری کی تجاویز دی جائیں گی، کمیٹی تمام کام سات دن میں مکمل کرنے کی پابند ہو گی۔
سیکرٹری ہاوسنگ نورالامین مینگل کا کہنا تھا کہ گنجائش کے مطابق پراجیکٹس میں بہتری لائی جائے گی، محکمہ ہاوسنگ اور تمام ذیلی اداروں میں معیاراولین ترجیح ہو گی۔
پنجاب کی حکومت نے صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ترقیاتی منصوبوں
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔