لاہور، چیئرمین کابینہ کمیٹی برائے امن و امان سے شیعہ علماء کونسل کے وفد کی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ویژن کے مطابق صوبہ بھر میں امن و امان کو یقینی بنا رہے ہیں، پاکستان کی سالمیت کی خاطر تمام مکاتب فکر یکجان ہیں۔ محرم الحرام کے دوران فول پروف سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں، حکومت پنجاب نے محرم الحرام کے دوران عزاداروں کی سکیورٹی کا خاص انتظام کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ چیئرمین کابینہ کمیٹی برائے امن و امان خواجہ سلمان رفیق سے محکمہ داخلہ میں شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات میں سیکرٹری داخلہ ڈاکٹر احمد جاوید قاضی، سپیشل سیکرٹری داخلہ فضل الرحمن، ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ و دیگر متعلقہ افسران نے بھی شرکت کی۔ وفد میں علامہ مظہرعباس علوی، سید سکندر عباس، علامہ سید اشتیاق حسین کاظمی، غلام شبیر ضیغم، سید صفیع الحسنین شیرازی، سید نیئرعباس کاظمی، قاسم علی قاسمی، حسنین حیدر، عمر فاروق اور مولانا امجد و دیگر شامل تھے۔ خواجہ سلمان رفیق اور شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کے درمیان محرم الحرام میں امن و امان کے انتظامات کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں قیام امن کی کوششوں پر حکومت پاکستان اور افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔
اس موقع پر ملک و قوم کی سلامتی اور امن و امان کیلئے دعا کی گئی۔ صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ویژن کے مطابق صوبہ بھر میں امن و امان کو یقینی بنا رہے ہیں، پاکستان کی سالمیت کی خاطر تمام مکاتب فکر یکجان ہیں۔ محرم الحرام کے دوران فول پروف سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں، حکومت پنجاب نے محرم الحرام کے دوران عزاداروں کی سکیورٹی کا خاص انتظام کیا ہے۔ خواجہ سلمان رفیق کا مزید کہنا تھا کہ تمام مکاتب فکر ریاست کے اہم سٹیک ہولڈرز ہیں۔ امن و امان کی فضاء کو برقرار رکھنے کیلئے تمام متعلقہ اداروں کی کوآرڈی نیشن کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
انہوں ںے کہاکہ شیعہ علماء کونسل پاکستان کے بیان کردہ مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے۔ کابینہ کمیٹی برائے امن و امان نے ہر ڈویژن میں جا کر سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا اور امن کمیٹیوں سے ملاقات کی۔ شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد نے کہا کہ ملکی سالمیت کی خاطر حکومت سے مکمل تعاون کریں گے، وزیر اعلیٰ کی جانب سے عزاداروں کیلئے لنگر و سبیل کا اہتمام اتحاد بین المسلمین کیلئے ایک خوبصورت پیغام ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شیعہ علماء کونسل پاکستان کے محرم الحرام کے دوران خواجہ سلمان رفیق کے وفد
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔