ہارون اختر سے اسکاٹ جیکب اور بورڈ آف انویسٹمنٹ ریفارمز ٹیم کی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
—تصویر بشکریہ سوشل میڈیا
وزیرِاعظم شہباز شریف کے معاونِ خصوصی ہارون اختر سے اسکاٹ جیکب اور بورڈ آف انویسٹمنٹ ریفارمز ٹیم نے ملاقات کی ہے۔
اس موقع پر پاکستان کی معیشت، انڈسٹریل پالیسی، ریگولیٹری ریفارمز، ایس ای سی پی ایکٹ اور غیر ملکی زرِمبادلہ پر گفتگو کی گئی۔
اعلامیے کے مطابق اسکاٹ جیکب نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کے وژن اور کاوشوں کو سراہا۔
معاونِ خصوصی ہارون اختر نے کہا کہ انڈسٹریل پالیسی، ریگولیٹری ریفارمز اور ٹیرف پالیسی مل کر کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نجی شعبہ اقتصادی ترقی اور روزگار کا مرکزی محرک ہونا چاہیے، نجی شعبہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ملک میں لاتا ہے۔
ہارون اختر نے اسٹیٹ بینک، ایس ای سی پی اور ایف بی آر کے ریگولیٹری نظام کا تقابلی جائزہ لینے کی ہدایت کی۔
دریں اثناء ہارون اختر نے کہا کہ اگر سرمایہ غیر ملکی زرِمبادلہ کے ذریعے آتا ہے تو غیر ضروری چھان بین نہیں ہونی چاہیے، ایف اے ٹی ایف کی فہرست سے باہر ممالک کی مانیٹرنگ زیادہ مؤثر ہے، ہمیں دہرا عمل نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم کے وژن کے تحت 5 سالہ صنعتی پالیسی تیار ہے، صنعتی شعبے کو تحفظ دے کر پیداواری لاگت کے مسائل کم کیے جا سکتے ہیں۔
وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان کے ریگولیٹری فریم ورک کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہے۔
ہارون اختر نے رجسٹریشن، لائسنس، سرٹیفکیٹس اور پرمٹس میں اصلاحات کے بورڈ آف انویسٹمنٹ کے کام کو سراہا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ہارون اختر نے نے کہا کہ
پڑھیں:
اسحاق ڈار اور چینی وزیر خارجہ وانگ ای کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال
شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کے موقع پر نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار اور چین کے وزیرِ خارجہ وانگ ای کے درمیان ملاقات ہوئی۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، علاقائی پیش رفت اور کثیر الجہتی فورمز میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔
نائب وزیرِ اعظم محمد اسحاق ڈار نے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنے پر چینی وزیرِ خارجہ وانگ ای کا شکریہ ادا کیا۔
چینی وزیرِ خارجہ وانگ ای نے ایس سی او کونسل برائے سربراہانِ مملکت کی آئندہ صدارت سنبھالنے اور 2027 میں ایس سی او سربراہی اجلاس کی میزبانی کرنے پر پاکستان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔