پولیس نے واقعہ کی ایف آئی آر وڈھ کے رہائشی محمد جان کی مدعیت میں بی این پی سربراہ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان سردار اختر مینگل، انکے بیٹے گورگین مینگل اور اسد اللہ مینگل سمیت دیگر کیخلاف درج کر لی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ متنازع شخصیت شفیق مینگل کے بھائی کے قتل کا مقدمہ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر جان مینگل اور ان کے بیٹے گورگین مینگل کے خلاف درج ہو گیا۔ قتل کی ذمہ داری کالعدم تنظیم نے قبول کی تھی، تاہم پولیس نے اختر مینگل کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق شفیق مینگل کے بھائی عطاء مینگل کو گزشتہ دنوں نامعلوم افراد نے خضدار میں فائرنگ کرکے قتل کر دیا تھا۔ بعد ازاں واقعہ کی ذمہ داری کالعدم تنظیم نے قبول کرتے ہوئے عطاء مینگل کو بلوچستان میں ڈیتھ اسکواڈ کا سرغنہ قرار دیا۔ تاہم پولیس نے واقعہ کی ایف آئی آر وڈھ کے رہائشی محمد جان کی مدعیت میں بی این پی سربراہ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان سردار اختر مینگل، ان کے بیٹے گورگین مینگل اور اسد اللہ مینگل سمیت دیگر کے خلاف درج کر لی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اختر مینگل مینگل کے

پڑھیں:

طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری

افغان طالبان رجیم کی مرکزی قیادت اور بدخشاں کے مقامی کمانڈروں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔

طالبان رجیم کے خلاف بغاوت   کے اشارے ملنے پر ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے نیا حکم جاری کردیا گیا ہے۔ بدخشاں کے معدنی وسائل پر لڑائی اور عوامی بغاوت کے بعد امیر ہبت اللہ نے  حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک سخت حکم نامہ جاری کیا  ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بدخشاں کے ناراض طالبان کمانڈروں اور حکام کے اثاثوں کی تفتیش کے لیے اعلیٰ سطح کا وفد مقرر کردیاگیا ہے۔ طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ کا حکم نہ ماننے والے مقامی کمانڈروں کو فوراً گرفتار کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔

ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بدخشاں میں جاری عوامی احتجاج اور بڑھتی ہوئی اندرونی بغاوت کو دبانے کے لیے خصوصی فوجی دستہ بھی تعینات کر دیاگیا ہے۔ قندھار گروپ نے بدخشاں گروپ کے ناراض طالبان رہنماؤں پر دباو ڈالنے کے لیے گرفتاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔ اس دوران مقامی طالبان کمانڈر موسیٰ کاکے اور سابق مائنز ڈائریکٹر اسلام الدین کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیاگیا۔

عالمی ماہرین کے مطابق بدخشاں میں جاری لڑائی افغان طالبان کے اندر گہرے ہوتے ہوئے نسلی اور سیاسی اختلافات کا واضح ثبوت ہے۔  طالبان رجیم کیخلاف ملک کے اندر اور باہر شروع ہونے والی نئی تحریکیں،ان کے مکمل کنٹرول اور عوامی حمایت کے جھوٹے دعووں کی پول کھول رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری
  • کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر کریک ڈاؤن تیز، 5600 سے زائد ملزمان گرفتار
  • اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
  • گورنر سٹیٹ بنک کے بھائی آصف جاوید انتقال کر گئے
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ