data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (کامر س رپورٹر)پاکستان کی کاروباری اور صنعتی برادری نے بعض بااثر شخصیات کی جانب سے اہم تجارتی پلیٹ فارمز کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔بعض صنعتکار ترقی کے دعووں کی آڑ میں ایسے اقدامات کر رہے ہیں جن کا اصل مقصد ذاتی فائدہ حاصل کرنا ہے جواجتماعی ترقی اور مساوی پالیسیوں کے اصولوں کے خلاف ہے۔سابق نائب صدر ایف پی سی سی آئی مرزا عبد الرحمان نے انکشاف کیا ہے کہ قبائلی علاقوں میں قائم صنعتوں پر نئے ٹیکس کے نفاذ کو روکنے کے لیے حکومت پر شدید دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ یہ فیصلہ جو کہ قومی سطح پر مالیاتی توازن قائم کرنے کی کوشش کا حصہ ہے اسے وہ عناصر چیلنج کر رہے ہیں جنہوں نے سالہا سال تک ٹیکس استثنیٰ سے فائدہ اٹھایا ہے۔ان افراد نے سابق فاٹا اور پاٹا جیسے علاقوں میں کارخانے قائم کر رکھے ہیں اور وہاں سے تیار شدہ اشیاء کو کم نرخوں پر کراچی، لاہور اور پشاور جیسے بڑے شہروں میں فروخت کر رہے ہیںجس سے باقاعدہ صنعتوں کو نقصان پہنچ رہا ہے اور مارکیٹ کے توازن میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے۔مرزا عبد الرحمان نے سوال اٹھایا کہ جب ان علاقوں میں گھی اور اسٹیل جیسی اشیاء کی قیمتیں بڑے شہروں کے برابر ہیںتو پھر ٹیکس چھوٹ کا جواز باقی نہیں رہتا۔ اگر ریلیف دینا ہے تو ان علاقوں کے عوام کو دیا جائے نہ کہ با اثر صنعتکاروں کو۔انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک بھر میں یکساں صنعتی اور ٹیکس پالیسی نافذ کی جائے اور چیمبر آف کامرس جیسے پلیٹ فارمز کو سیاسی اور ذاتی اثر و رسوخ سے پاک رکھنے اور شفافیت کو یقینی بنانے پر زور دیا۔اگرلوٹ مار کا سلسلہ جاری رہا تو غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد مجروح ہو گا اور ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔انہوں نے ذمہ دار صنعتکاروں اور تجارتی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر ان منفی رجحانات کا مقابلہ کریں اور قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے ادارہ جاتی شفافیت اور سالمیت کا دفاع کریں کیونکہ یہی پاکستان کی پائیدار ترقی کی ضمانت ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم

پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی اور علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔

تقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع

وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار ڈھاکہ یونیورسٹی کمپیوٹر لیب

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم