حضرت عمرؓ کی زندگی حکمرانوں کیلئے عظیم نمونہ ہے،سنی رابطہ کونسل
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹنڈوجام (نمائندہ جسارت ) سنی رابطہ کونسل سندھ کے نائب صدر مولانا عبدالصمد حیدری نے کہا ہے کہ صحابہ ؓ سے محبت رکھنا ہمارے ایمان کا حصہ ہے جو صحابہ سے محبت نہیں کرتے وہ ختم نبوت پر یقین نہیں رکھتے۔ یہ بات انھوں نے سنی رابطہ کو نسل ٹنڈوجام کی طرف سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے یوم شہادت کے موقع پر ایک عظیم الشان ریلی خطاب کرتے ہوئے کہی ۔انہوں نے کہا کہ حضرت عمرؓ مراد رسول ﷺ ہیں آج دنیا میں جنتے محکمے چل رہے ہیں چاہیے وہ فوج کا ہو پولیس کا ہو ڈاکخانے کا نظام ہو مردم شماری یا گھر شماری کا نظام ہو یہ سب حضرت عمر ؓ نے بنایا تھا۔ انھوں نے کہا آپ ؓ نے ایسا عدل کا نظام قائم کیا تھا کہ بارہ لاکھ مربع میل پر حکمرانی ہونے کے باوجود عدل کا نظام قائم تھا اور کسی کی جرأت نہیں تھی کہ وہ کسی کا حق مار لے یا کوئی ڈکیتی کرے یا کسی کو قتل کر دے رات اور دن میں امن قائم تھا آج بھی ہم سیرت عمر فاروقؓ پر عمل کرکے ملک میں عدل و انصاف کا نظام رائج کر سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ صحابہ سے محبت کرنا ہر مسلمان کے ایمان حصہ ہے جو صحابہ ؓ سے محبت نہیں کرتا وہ ختم بنوت کا منکر ہے کیونکہ وہ نبی کریم ﷺ اور اللہ تعالی ٰ کے فیصلے اور حکم کا منکر ہے کیونکہ صحابہ کا درجہ ہر کسی کو نہیں ملتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ نہ چاہیں کے انھوں نے کہا کہ آپؓ کی خلافت میں عدل و انصاف کا یہ عالم تھا کہ ایک عام شہری بھی حکمران سے جواب طلبی کر سکتا تھاانھوں نے کہا کہ حضرت عمرؓ کی زندگی تمام حکمرانوں منتظمین اور انصاف فراہم کرنے والوں کے لیے ایک عظیم نمونہ ہے ہمیں ان کے عدل، دیانت، نظم و نسق اور عوامی فلاح کے اصولوں کو اپنانا ہوگا تاکہ معاشرے میں امن، ترقی اور خوشحالی کو یقینی بنایا جا سکے ریلی سے سنی رابطہ کو نسل ٹنڈوجام کے رہنما عبدالرحمن تالپور نے بھی خطاب کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سنی رابطہ کو انھوں نے کہا نے کہا کہ کا نظام
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔