data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پشاور(نمائندہ جسارت) جماعت اسلامی پاکستان کے سابق مرکزی امیر،سابق سینیٹروسابق سینئر صوبائی وزیر سراج الحق نے کہا ہے کہ افغان ملت نے 1919ء میں برطانوی سامراج، 1979ء میں روسی سامراج اور 2001ء میں امریکی سامراج کی قیات میں نیٹو فورسز کو شکست دیکر ثابت کیا کہ یہ خطہ کسی کا تابع نہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بد اعتمادی کی خلیج ختم ہونی چاہیے اور دونوں ممالک کو ترقی، تجارت اور تعلیم وصحت کے شعبوں میں ایک دوسرے کے شراکت دار بننا چاہیے۔ انہوں نے ان خیالات کااظہار انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز (آئی آرایس) پشاور کے زیراہتمام پاک افغان تعلقات کی نئی جہتیں کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیاہے۔ سراج الحق نے تجویز دی کہ پشاور طورخم ریلوے ٹریک کو بحال کرکے افغانستان تک توسیع دی جائے، افغانوں کے لیے خصوصی شناختی کارڈز کا اجرا کیا جائے اور دونوں ممالک کے شہریوں کو دستاویزات کے ساتھ آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان 2 آزاد وخودمختار پڑوسی ممالک ہیں جو مذہب،ثقافت،زبان اور جغرافیائی وحدت کے تاریخی رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں،ان دونوں ممالک کی قربت اور دوستی نہ صرف ان دونوں ممالک کے وسیع تر مفاد میں ہے بلکہ اس سے یہ پورا خطہ بھی ترقی کی نئی بلندیوں کوچھو سکتاہے۔انہوں نے کہاکہ اس حقیقت کوکوئی بھی نہیں جھٹلا سکتا کہ پاکستان نے ہر مشکل گھڑی میں افغانوں کی مدد کی ہے اورافغانستان میں استحکام افغانوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے بھی مفاد میں ہے۔انہوں نے کہا کہ پاک افغان سرحد ایک مسلمہ حقیقت ہے اور اس کو متنازع بنانے کی کسی بھی سازش یا کوشش کی حمایت کی گنجائش نہیں ہے، پختونستان ایک مردہ گھوڑا ہے جس میں جان ڈالنے کی کوئی بھی سازش ناکامی سے دوچار ہوگی۔سراج الحق نے کہا کہ افغانوں نے امریکی سامراج،پاکستان نے اکھنڈ بھارت اور ایران نے گریٹر اسرائیل کے عزائم خاک میں ملا کر عالم اسلام کی حقیقی قیادت کا حق ادا کردیاہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان،پاکستان اور ایران ترکی کو ساتھ ملاکر ایک مشترکہ محاذ کے ذریعے نہ صرف عالم اسلام کی قیادت کرسکتے ہیں بلکہ یہ چاروں ممالک مل کر اس پورے خطے کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔افغان قونصل جنرل حافظ محب اللہ نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کا پہلا رشتہ اسلام کا ہے اور افغان عوام آج بھی پاکستانی بھائیوں کی قربانیوں کو یادرکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے افغانستان میں 20 سالہ قبضے کے دوران نہ اسپتال بنائے اور نہ ہی تعلیم و صحت کے شعبے میں کوئی بہتری لائی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کی بہتری میں حکومتی سطح کے ساتھ ساتھ دونوں جانب کے سیاسی قائدین،علما کرام،تاجر،دانشور،صحافی ،کھلاڑی،شاعر،ادیب اور فنکار باہمی ملاقاتوں اور رابطوں کے ذریعے اہم کرداراداکرسکتے ہیں۔پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس کے ڈپٹی چیئرمین ضیا الحق سرحدی نے اس موقع پر کہا کہ پاک افغان تجارت کا حجم پہلے 2.

5 ارب ڈالر تھا جو حالیہ کشیدگی کے باعث متاثر ہوکر 80 کروڑ ڈالر کی کم ترین سطح پر پہنچاہے لیکن اب آہستہ آہستہ دو طرفہ تجارت بہتری کی جانب گامزن ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ٹرانزٹ ٹریڈ،ویزہ پالیسی اور بارڈر مینجمنٹ کو بہتر بنایا جائے تاکہ تاجروںاورڈرائیوروں کو در پیش مشکلات کا خاتمہ ہو سکے۔ ممتاز تجزیہ کاراور سینئر صحافی محمود جان بابر اور چیئرمین آئی آر ایس ڈاکٹر محمد اقبال خلیل نے اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کو نہ صرف سفارتی سطح پر روابط بڑھانے کی ضرورت ہے بلکہ عوامی سطح پر رابطے، تعلیم، علاج اور ثقافت کے شعبوں میں بھی مشترکہ حکمت عملی اپنائی جائے تاکہ خطے میں پائیدار امن اور ترقی کو یقینی بنایا جاسکے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاکستان اور افغانستان انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک ہے انہوں نے کہ پاکستان کہا کہ پاک سراج الحق پاک افغان

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان

پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔

وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستانیوں کیلئے سری لنکا نے ویزا فیس ختم کر دی
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا