Daily Ausaf:
2026-07-24@08:43:28 GMT

تہذیبوں کا تصادم اور پاکستان کی آزمائش

اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT

(گزشتہ سے پیوستہ)
سوال یہ ہے کہ کیاروس اورچین کی پوزیشن امریکی حملے کومؤخرکرواسکتی ہے؟چین اور روس کی مشترکہ مزاحمت امریکی فوجی آپشن پرایک مضبوط توازن پیداکرتی ہے۔خدشہ ہے کہ ٹرمپ اگلے دوہفتوں میں حملے کافیصلہ کرسکتے ہیں،مگرعالمی طاقتوں کے دباؤنے ٹرمپ کومحتاط کردیاہے۔اقوام متحدہ سمیت متعدد ممالک نے بھی زوردیاہے کہ طاقت سے مسئلہ حل نہیں، سیاسی راستے اپنانے چاہئیں۔اس پس منظر میں امریکی مددکے بغیراسرائیل کامکمل حملہ خطرناک حدتک خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔
اس مرحلے پرسیاسی و چین روس مشترکہ مؤقف اورمغربی ممالک کے دباؤنے ٹرمپ کے فوجی آپشن پرپابندی عائدکردی ہے۔سفارتی حل ہی زیادہ ممکن دکھائی دیتے ہیں،اورفوجی محاذپرکسی صورت میں بریک لگنے کے آثارنمایاں ہیں۔ چین کاموثراور متوازی مقام،روس کے ساتھ مضبوطی اورعالمی میڈیاکے مشترکہ مؤقف نے امریکی فوجی آپشن کودباؤمیں رکھا ہے۔یوں امریکا کوموجودہ تناؤمیں جنگ آگے بڑھانے کیلئے سخت سوچناپڑے گا۔ چین،جوایران کاخاموش مگربااثراتحادی ہے، خاموشی سے مگر محتاط اندازمیں اس پورے منظر نامے کودیکھ رہاہے۔ایسے میں پاکستان کوہرقدم پھونک پھونک کررکھناہوگا۔
چین نے ایراناسرائیل تنازع میں گہری تشویش کااظہارکیاہے،فوجی مداخلت کی بجائے سفارت کاری کاراستہ اپنایا،اوراپنا بین الاقوامی ثالثی کرداراجاگرکیا۔عالمی میڈیانے چین -روس موقف کوایک نئے عالمی توازن کی نمائندگی کے طور پررپورٹ کیا،جو امریکی فوجی آپشن پرمخصوص حدودعائدکرتانظرآرہاہے۔امریکا،اگرچہ حملے کے امکانات طے کر رہا ہے ،مگرچین اورروس کے مشترکہ دباؤکی وجہ سے فی الحال اس پالیسی کو مؤخرکرنے کاامکان زیادہ محسوس ہوتاہے۔
برطانوی وزیراعظم کئیرسٹارمرنے ٹرمپ کو مشورہ دیاکہ ایران کے خلاف عسکری کارروائی سے اجتناب کیاجائے۔برطانوی وزیراعظم کایہ مشورہ ایک نیااشارہ دیتاہے کہ مغرب کے اندر بھی ایران کومکمل دشمن قراردینے پراتفاقِ رائے نہیں۔اس طرح یورپی طاقتیں بھی چاہتی ہیں کہ خلیج فارس ایک نئی جنگ کی آگ کاشکارنہ ہو۔یہ مشورے دراصل خفیہ سفارتکاری کی وہ جھلکیاں ہیں جوبظاہرامن کاپیغام لیے ہوتی ہیں،مگرباطن میں طاقت کے توازن کواپنے مفادمیں موڑنے کی کوشش کرتی ہیں۔
اس پوری کہانی میں بھارت بھی ایک سرگوشی کی مانندموجودہے۔حیفہ،جوکبھی نوآبادیاتی ہندوستان کی بندرگاہوں سے جڑارہا، اب اسرائیلی اہمیت کامرکزہے اورایرانی میزائلوں کا ہدف۔یہ محض اتفاق نہیں کہ تہران کی نگاہ تل ابیب سے گزرتی ہوئی دہلی کے ماضی کی گلیوں سے بھی واقف ہے۔ بھارت اوراسرائیل کے بڑھتے ہوئے تعلقات،اورحیفہ کی تاریخ ،اس تناظرمیں ایران کا اس مقام پرحملہ محض جنگی حکمت عملی نہیں بلکہ علامتی انتقام کی صورت اختیارکرتاجارہاہے۔یہ حملے صرف جغرافیہ کو نہیں،بلکہ تاریخ کوبھی نشانہ بنارہے ہیں۔
حیفہ،اسرائیل کی وہ بندرگاہ ہے جس پر ایرانی حملوں کی خبریں عالمی میڈیاپرچھائی رہیں۔ مگر بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ حیفہ کبھی ہندوستانی فوجیوں کی آماجگاہ بھی رہا۔پہلی جنگِ عظیم میں برطانوی افواج کے ساتھ شامل ہندوستانی سپاہی اسی شہر کی مٹی میں دفن ہوئے ہیں۔ یہودوہنود کا خطرناک ایجنڈے پرمبنی اتحاداب کسی سے پوشیدہ نہیں۔ایک طرف گریٹر اسرائیل کانقشہ اس بات کی گواہی دے رہاہے کہ وہ کس طرح تمام عالم عرب کواس کاحصہ سمجھتے ہوئے مسلمانوں کے مقدس شہرمدینہ کوبھی اس کاحصہ بنانے پرعمل پیرا ہے وہاں شدت پسندہندوآرایس ایس کا اکھنڈبھارت کامنصوبہ یہ ہے کہ جس ملک کی سرحدیں بحرہندسے ملتی ہیں،وہ اکھنڈبھارت کا حصہ ہیں اورمودی اسی جماعت کی نمائندگی کر رہا ہے۔
بھارتی گودی میڈیااورسوشل میڈیاپر مودی مخالف رجحانات میں تیزی آئی ہے۔ انڈیا ٹائمز پرشائع نیوزکے مطابق،ٹرمپ نے بھارتی پاکستان جنگ کامذاق یہ کہتے ہوئے روکاکہ دونوں کوعالمی تباہی سے بچالیاہے۔اس بیان کے ردِعمل میں بھارت کی پرائمری میڈیامیں بھی عوامی سطح پرشدید تنقیداورطنزیہ بیانات سامنے آرہے ہیں جن میں سرنڈرمودی جیسے نعروں کابھی آغاز ہوگیا ہے۔سیاسی تجزیہ نگاریہ بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ رجحان مستقبل میں کسی بڑی تحریک کی بنیادبن سکتا ہے،اگرمخالفین اسے منظم کریں یاکوئی کرائسس سراٹھائے تو مودی کوگھربھیجنے میں آسانی ہوجائے گی۔
ان حالات میں یہ ملاقات محض دوافرادکی گفت وشنیدنہیں،بلکہ تہذیبوں کے تصادم،اسلامی دنیاکے اتحاد،اورعالمی طاقتوں کے نئی صف بندیوں کاپیش خیمہ ہے۔ پاکستان اس وقت تاریخ کے ایک ایسے موڑپرکھڑاہے جہاں ہراک قدم ہے دلیلِ شعورو دانش کا، ذراسالغزشِ پابھی فناکاپیغام دے سکتی ہے۔ایسے میں ضرورت ہے کہ پاکستان، اپنے نظریاتی اساس،سفارتی دانش،اورعلاقائی ہم آہنگی کے تقاضوں کوسامنے رکھتے ہوئے،ایک ایساکردار اداکرے جونہ صرف جنگ سے روکے، بلکہ اسلامی دنیاکی فکری اور عملی قیادت کانیا باب بنے۔
پاکستان اس وقت نہ صرف ایک جغرافیائی مقام پرکھڑاہے بلکہ تاریخ کے دھارے پرنکتہ اتصال بن چکاہے۔اس کی خاموشی دراصل ایک صداہے دانش کی،خودداری کی،اورحکمتِ عملی کی۔کیاپاکستان اس تپتی ریت پراپناقدم رکھے گا؟یاپھرحکمت، صبر،اورغیرجانبداری سے ایک نئے باب کاآغازکرے گا؟یہ فیصلہ صرف عسکری قیادت کانہیں،بلکہ پوری قوم کی دانش وبینش کاامتحان ہے۔ایک پیغام تہذیبوں کو،طاقتوں کو،اورتاریخ کو،کہ پاکستان اب صرف تماشائی نہیں،ایک فکری کردارہے۔
یادرکھو!یہ صرف ملاقات نہیں تھی‘ یہ ایک اہم پیغام تھا!

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: فوجی آپشن نہیں بلکہ ہیں کہ

پڑھیں:

خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟

پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف خارجہ محاذ پر سفارتی کامیابیوں کے دعوے کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ملک کے اندر سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی کے بحران گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ کسی بھی ریاست کی اصل طاقت اس کی اندرونی مضبوطی ہوتی ہے۔ اگر گھر کے اندر بے چینی، عدم استحکام اور عوامی بے اعتمادی بڑھ جائے تو دنیا میں حاصل ہونے والی سفارتی کامیابیاں بھی دیرپا ثابت نہیں ہوتیں۔
بین الاقوامی تعلقات میں ایک معروف اصول ہے کہ “All foreign policy begins at home یعنی خارجہ پالیسی کی بنیاد مضبوط داخلی استحکام پر ہوتی ہے۔ اگر بلوچستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں میں عوام خود کو غیر محفوظ، محروم یا نظرانداز محسوس کریں تو بیرونی دنیا میں پاکستان کا مقف بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔بلوچستان اس وقت پاکستان کی سلامتی اور معیشت کا سب سے اہم خطہ ہے۔ سی پیک، گوادر پورٹ، ریکوڈک، معدنی وسائل اور دیگر اسٹریٹجک منصوبے اسی صوبے سے وابستہ ہیں۔ لیکن افسوس کہ یہی صوبہ بدامنی، سیاسی بے اعتمادی اور احساسِ محرومی کا شکار ہے۔ ریاست اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کسی بھی ترقیاتی منصوبے کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
اسی طرح خیبر پختونخوا میں دہشت گردی ہو رہی ہے جبکہ آزاد کشمیر میں حالیہ سیاسی کشیدگی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ یہ تمام مسائل محض انتظامی نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کے ہیں جن کا حل طاقت کے استعمال سے زیادہ سیاسی مکالمے، بہتر حکمرانی اور عوامی اعتماد کی بحالی میں پوشیدہ ہے۔
اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والے حالات کے پیچھے بھارت کا کردار موجود ہے۔ اس امکان کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ہر ملک اپنے مفادات کے مطابق مخالف ریاست کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے داخلی مسائل کا ذمہ دار ہمیشہ بیرونی قوتوں کو قرار دے کر اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو سکتے ہیں؟
اگر بھارت پاکستان کے خلاف سرگرم ہے تو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کے پاس مضبوط انٹیلی جنس ادارے، دفاعی صلاحیت اور قومی سلامتی کا پورا نظام موجود ہے۔خاص طور پر بلوچستان میں اصل مسئلہ سیاسی جواز کا ہے۔ جب عوام کو یہ احساس ہو کہ ان کی رائے اور ووٹ کی اہمیت کم ہو رہی ہے تو ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔ نوجوان نسل میں احساسِ محرومی کا بڑھنا کسی بھی ملک کے لیے خطرناک رجحان ہے۔ پاکستان کو ایسی صورتحال سے ہر قیمت پر بچنا ہوگا۔
آزاد کشمیر کی صورتحال بھی قومی توجہ کی متقاضی ہے۔ یہ محض ایک انتظامی یا علاقائی معاملہ نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر سے جڑا ہوا ایک حساس پہلو ہے۔ اگر آزاد کشمیر کے عوام میں بے چینی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات مقبوضہ کشمیر تک بھی پہنچتے ہیں اور پاکستان کے اصولی مقف کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام کی آواز کو سننا اور سیاسی مسائل کا آئینی و جمہوری حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔
پاکستان کو اس وقت الزام تراشی سے زیادہ خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ کون سی کمزوریاں ہیں جن سے ہمارے مخالف فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگر ہم اپنے گھر کو منظم، مضبوط اور منصفانہ بنا لیں تو بیرونی سازشیں خود بخود ناکام ہو جائیں گی۔
ریاست کی طاقت صرف اس کے ہتھیاروں، اداروں یا سفارتی تعلقات سے نہیں بلکہ اپنے عوام کے اعتماد سے بنتی ہے۔ جب عوام اور ریاست ایک صفحے پر ہوں تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ لیکن اگر داخلی تقسیم، سیاسی کشیدگی اور احساسِ محرومی بڑھتا رہا تو بیرونی کامیابیاں بھی وقتی ثابت ہوں گی۔
آج پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت ایک ایسی قومی حکمت عملی کی ہے جس میں خارجہ کامیابیوں کے ساتھ ساتھ داخلی استحکام، آئینی بالادستی، بہتر حکمرانی، سیاسی مفاہمت اور عوامی اعتماد کی بحالی کو اولین ترجیح دی جائے۔ کیونکہ مضبوط پاکستان کی بنیاد اسلام آباد کے سفارتی ایوانوں میں نہیں بلکہ بلوچستان، خیبر پختونخوا، سندھ، پنجاب، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام کے دلوں میں رکھی جائے گی۔
پاکستان کو اپنی علاقائی خارجہ پالیسی کا بھی غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ خصوصا افغانستان کے ساتھ مسلسل کشیدہ تعلقات کے نتیجے میں ہونے والے جانی، معاشی اور سفارتی نقصانات پر سنجیدہ غور ہونا چاہیے۔ گزشتہ برسوں میں سرحدی کشیدگی، دہشت گردی، مہاجرین کے مسائل اور سرحدی بندشوں نے دونوں ممالک کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سالانہ تجارت تقریبا پانچ سے چھ ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی، مگر کشیدہ تعلقات کے باعث اس میں نمایاں کمی آئی جس کا براہِ راست اثر پاکستان کی معیشت، برآمدات اور سرحدی علاقوں کے کاروبار پر پڑا۔ یہ سوال اہم ہے کہ کیا پاکستان کی معیشت ایسے نقصانات کی متحمل ہو سکتی ہے؟ کیا ہمسایہ ممالک کے ساتھ مستقل کشیدگی قومی مفاد میں ہے یا اس سے نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہوتا ہے؟ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی علاقائی پالیسیوں پر ازسرِنو غور کرے۔ مضبوط خارجہ پالیسی وہی ہوتی ہے جو قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ اقتصادی مفادات، علاقائی تعاون اور پائیدار امن کو بھی ترجیح دے۔

متعلقہ مضامین

  • فکر اقبالؒ اورامن عالم میں پاکستان کاکردار
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار