امریکہ سے اچھے تعلقات کا مطلب یہ نہیں غلط چیز میں بھی ساتھ دیں: اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی + نوائے وقت رپورٹ) نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اسرائیل کو بطور ریاست تسلیم کرنے کی قیاس آرائیوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے فلسطین کے مسئلہ کا دو ریاستی حل طے ہونے تک اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے پاکستان کے اصولی موقف کا اعادہ کیا ہے۔ نائب وزیراعظم نے یہ بات جمعہ کو یہاں دفتر خارجہ میں میڈیا کو پاکستان کی کامیابیوں اور سفارتی مصروفیات کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ 1967ء سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پرایک آزاد اورخودمختار قابل عمل فلسطینی ریاست کے قیام کے ساتھ فلسطین کے مسئلہ کے دو ریاستی حل کی حمایت کی ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ پاکستان اور امریکہ ٹیرف مذاکرات میں تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں، توقع ہے کہ دونوں ملک اس مسئلہ کا مناسب حل نکال لیں گے۔ نائب وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان نے حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران جنگ بندی یا مذاکرات کا نہیں کہا تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تنازعہ جموں و کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب تنازعات پر باوقار انداز میں جامع بات چیت کے لئے تیار ہے۔ یہ پہلی بار ہے کہ بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران پاکستان کے بیانیے کو عالمی سطح پر تسلیم اور سراہا گیا۔ پاکستان آئندہ ماہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالے گا۔ انہوں نے اپنے حالیہ دورہ ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کے بارے میں ذرائع ابلاغ کو آگاہ کیا جہاں پاکستان نے فلسطین، کشمیر، اسلامو فوبیا اور ایران کشیدگی سمیت اہم مسائل پر علاقائی امن کے اقدامات، دو طرفہ تعاون اور کثیر الجہتی سفارت کاری میں فعال کردار ادا کیا۔ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے استنبول میں20 سے23 جون تک منعقد ہونے والے اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کی کونسل کے اجلاس میں شرکت کا بھی ذکر کیا۔ پاکستان کی کوشش سے او آئی سی اجلاس میں ایران کے معاملے پر خصوصی سیشن ہوا۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ اجلاس کے دوران پاکستان نے ایران کی خود مختاری اور اشتعال انگیزی کے خلاف تحمل کی حمایت میں او آئی سی کے مضبوط اجتماعی موقف کی وکالت کی۔ ایران نے پاکستان کی بروقت اور ثابت قدم حمایت کو تسلیم کیا۔ ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے ایرانی پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران پاکستان کی جانب سے سفارتی یکجہتی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی ایک باوقار جنگ بندی کے لیے ترکیہ اور ایرانی قیادت سے بات کی۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان تنازعہ کے دوران تہران کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہا، مدد کی پیشکش کی اور پس پردہ سفارت کاری کی سہولت فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی جوابی کارروائی اور اس کے نتیجے میں جنگ بندی کے معاہدے کو علاقائی تنائو کی تخفیف کی جانب قدم کے طور پر دیکھا گیا جس نے امن کی رفتار کو برقرار رکھنے میں پاکستان کی کوششوں کو اہم قرار دیا۔نائب وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کی کوشش سے مقبوضہ کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کا بھی اجلاس ہوا، سربراہی اجلاس کے بعد جاری ہونے والے استنبول اعلامیے میں تنازعہ کشمیر، فلسطینیوں کی نسل کشی، بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا، جنوبی ایشیا میں علاقائی سلامتی کی صورتحال اور سندھ طاس معاہدے کی حمایت کا اعادہ کیا گیا، یہ پاکستان کے لیے ایک سفارتی کامیابی ہے۔ استنبول میں سعودی عرب، کویت، ایران، ترکیہ، مصر، ملائیشیا، آذربائیجان، ازبکستان، قازقستان، بنگلہ دیش، برونائی اور افغانستان کے ہم منصبوں کے ساتھ13 دو طرفہ ملاقاتیں کیں۔ پاکستان، افغانستان اور ازبکستان کے درمیان 624 کلومیٹر کے سہ فریقی ریلوے منصوبے تک بات چیت شامل تھی۔ ملائیشیا نے10 جولائی کو ہونے والے آسیان سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے دعوت دی ہے جسے انہوں نے قبول کر لیا۔ نائب وزیراعظم نے اس موقع پر متحدہ عرب امارات کے حالیہ دورے کے بارے میں بھی بتایا جہاں 12 سال بعد پاکستان-یو اے ای مشترکہ وزارتی کمشن (جے ایم سی) کا اجلاس ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی قیادت میں 10 رکنی وفد میں اہم وزارتوں کے اعلیٰ حکام شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والوں کو ویزا کی شرائط سے مستثنی قرار دینے پر اتفاق کیا ہے جو 24 جون کو مفاہمت کی دستاویز پر دستخط کی تاریخ سے30 دن کے بعد لاگو ہوگا۔ علاوہ ازیں نوائے وقت رپورٹ کے مطابق اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ امریکہ سے اچھے تعلقات کا یہ مطلب نہیں کہ غلط چیز میں بھی اس کا ساتھ دیں۔ ہمیں پتہ تھا ایران بدلہ لئے بغیر نہیں رہے گا‘ ایران نے سلامتی کونسل میں سب سے پہلے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔ ان کے صدر نے پارلیمنٹ میں تشکر پاکستان کے نعرے لگائے۔ علاوہ ازیں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے ملاقات کی۔ دوطرفہ تعاون‘ علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ یو این سلامتی کونسل کی صدارت سے متعلقہ امور پر بھی بات چیت کی۔ دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان جولائی میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل پاکستان کی کہ پاکستان پاکستان نے پاکستان کے اسحاق ڈار کے دوران کے ساتھ
پڑھیں:
صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) صدر مملکت آصف علی زرداری نے اٹلی کے صدر سرجیو میتاریلا اور اٹلی کے عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد دیتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ آنے والے برسوں میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان دوطرفہ تعلقات مزید فروغ پائیں گے۔(جاری ہے)
منگل کو ایوانِ صدر کے پریس ونگ کے مطابق صدر مملکت نے اپنے تہنیتی پیغام میں کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ اپنے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو کہ باہمی اعتماد، تعاون اور امن و خوشحالی کے لیے مشترکہ عزم پر مبنی ہیں۔
انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ آنے والے برسوں میں یہ دوطرفہ تعلقات مزید فروغ پائیں گے۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنے روابط کو بہت اہمیت دیتا ہے اور بین الاقوامی تعاون، مذاکرات اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے یورپی یونین میں اٹلی کے تعمیری کردار کو انتہائی سراہتا ہے۔ انہوں نے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔