نہیں معلوم ایران نے 60 فیصد افزودہ یورینیم کا ذخیرہ کہاں چھپا رکھا ہے، گروسی
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں گروسی نے انکشاف کیا کہ ایران کے پاس تقریباً 400 کلوگرام (880 پاؤنڈ) یورینیم موجود ہے جو 60 فیصد تک افزودہ ہے جو ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے درکار 90 فیصد حد سے زیادہ دور نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے ”انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی“ کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے کہا ہے کہ وہ اس بات کی تصدیق نہیں کر سکتے کہ ایران نے 60 فیصد افزودہ یورینیم کا ذخیرہ کہاں چھپا رکھا ہے۔ سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں گروسی نے انکشاف کیا کہ ایران کے پاس تقریباً 400 کلوگرام (880 پاؤنڈ) یورینیم موجود ہے جو 60 فیصد تک افزودہ ہے جو ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے درکار 90 فیصد حد سے زیادہ دور نہیں۔ گروسی نے کہا کہ ”ایران نے کبھی اس بات کو چھپایا نہیں کہ وہ اس مواد کو محفوظ رکھے ہوئے ہے،“۔ بورڈ آف گورنرز سے پیر کو خطاب کرتے ہوئے گروسی نے کہا کہ آئی اے ای اے معائنہ کاروں کو دوبارہ ایران کے جوہری مراکز تک رسائی حاصل ہونی چاہیے، خاص طور پر ان 400 کلوگرام یورینیم کے ذخیرے کے بارے میں معلومات کے لیے۔
گروسی کے مطابق معائنہ کاروں نے آخری بار 10 جون کو اس ذخیرے کو دیکھا تھا، جو اسرائیل کی جانب سے اصفہان اور نطنز میں ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے سے صرف تین دن پہلے کی بات ہے۔ امریکہ نے بھی بعد میں ان حملوں میں شمولیت اختیار کی اور فردو میں واقع گہرائی میں چھپی افزودگی کی تنصیب کو بھی نشانہ بنایا۔ گروسی نے مزید بتایا کہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے 13 جون کو انہیں مطلع کیا تھا کہ ایران “ اپنے جوہری آلات اور مواد کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات“ اختیار کرے گا۔ گروسی کا کہنا تھا کہ انہوں نے عراقچی پر واضح کیا کہ اگر ایران کسی بھی جوہری مواد کو منتقل کر رہا ہے، تو اس کی تفصیلات ائی آے ای اے کو فوری طور پر فراہم کرنا ہوں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہ ایران ایران کے کے لیے
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔