پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جس میں پارٹی ارکان کو بجٹ منظوری کے حق میں ووٹ دینے کی ہدایت کردی گئی۔

پارٹی کی سینئر رہنما شازیہ مری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے پارٹی ارکان کو ہدایت کی کہ وہ مالیاتی بل 2025-26 کے حق میں ووٹ دیں، وفاقی حکومت نے پیپلز پارٹی کی ٹیم سے مشاورت کی اور بجٹ سے متعلق ہمارے تحفظات کو دور کیا۔

اپنے ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے بجٹ میں اضافے کا مطالبہ کیا تھا، جسے 20 فیصد بڑھا دیا گیا، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سولر پینلز پر 18 فیصد ٹیکس کو مسترد کیا تھا، جسے اب 50 فیصد کم کر دیا گیا ہے۔

شازیہ مری نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کا مطالبہ کیا، وفاقی بجٹ میں تنخواہوں میں 10 فیصد اور پنشنرز کے لیے 7 فیصد اضافہ کیا گیا، تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس سلیب میں تبدیلی پیپلز پارٹی کی مشاورت سے کی گئی، ایک لاکھ روپے تنخواہ پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا۔

شازیہ مری نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے سندھ کی جامعات کے لیے مختص بجٹ کو پیپلز پارٹی کے مطالبے پر بحال کیا، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) قانون میں ترامیم سے متعلق پیپلز پارٹی کے تحفظات بھی دور کیے گئے، جب حکومت نے ہمارے تحفظات دور کر دیے اور ضروری ترامیم کر دیں، تو ہم مالیاتی بل کی حمایت کریں گے۔

 

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پیپلز پارٹی کے

پڑھیں:

بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی

سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ