جاپان میں دستیاب ملازمتوں کے مواقع میں پہلی بار کمی کی وجہ کیا رہی؟
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
جاپانی حکومت کے جمعہ کے روز جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مئی میں ملازمتوں کی دستیابی کا تناسب گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 0.02 پوائنٹ کم ہو کر 1.24 رہ گیا، جو تین ماہ میں پہلی بار کمی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:جاپان میں 9 افراد کو قتل کرنے والے ’ٹوئٹر کلر‘ کو پھانسی دیدی گئی
چینی خبر رساں ادارے شہنوا نیوز کے مطابق محکمہ صحت، محنت و بہبود کے مطابق ملک بھر میں یہ تازہ ترین ملازمت سے امیدوار کا تناسب ظاہر کرتا ہے کہ ہر 100 نوکری کے متلاشی افراد کے لیے 124 ملازمت کے مواقع دستیاب تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل مہنگائی کے باعث زیادہ کارکن بہتر حالات کی تلاش میں ہیں۔
زیادہ تر بڑے شعبوں میں نئی نوکریوں کے مواقع کم ہوئے ہیں، جہاں ہوٹل اور ریستوراں کے شعبے میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 19.
یہ بھی پڑھیں:جاپان میں تعلیم کے بعد ملازمت کے مواقع، جاپان کی نئی ویزا اصلاحات کیا ہیں؟
ٹرانسپورٹیشن اور ڈاک خدمات واحد شعبہ تھا جہاں معمولی اضافہ (0.1 فیصد) دیکھا گیا، جو ٹرک اور دیگر ڈرائیوروں کی مسلسل قلت کی عکاسی کرتا ہے۔
اس دوران داخلہ امور اور مواصلات کے وزارت کے علیحدہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ مئی میں ملک کی بے روزگاری کی شرح مسلسل تیسرے ماہ 2.5 فیصد پر برقرار رہی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جاپان جاپان جابس جاپان ملازمتیں مہنگائی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جاپان جاپان جابس جاپان ملازمتیں مہنگائی کے مواقع
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔