data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور (کامرس رپورٹر) چیئرپرسن آئی پی او نے قومی معیشت اور تاجر برادری کے مفادات کے تحفظ میں ایل سی سی آئی کے گراں قدر تعاون کا اعتراف کیا۔ انہوں نے موجودہ کاروباری ایکو سسٹم میں ایگری ٹیک کی اہمیت اور متعلقہ کاروباری اداروں اور تجارتی اداروں کو برا?مد کرنے سے پہلے اپنے آئی پیز خاص طور پر جغرافیائی اشارے (GI) کو رجسٹر کرنے کی ضرورت پر مزید روشنی ڈالی۔چیئرپرسن آئی پی او پاکستان، سفیر (ر) فرخ امل نے لاہور چیمبر ا?ف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ایل سی سی آئی ابوذر شاد اور ایل سی سی آئی کی سینئر قیادت علی حسام اصغر، چیئرمین پی بی جی اور سینئر نائب صدر ایل سی سی آئی چوہدری نذیر شاہ سے ملاقات کی۔ صدر LCCI اور ان کی ٹیم نے IPO کی جانب سے چیئرپرسن اور سینئر افسران کا خیر مقدم کیا۔ابوذر شاد نے کاروباری اداروں کے لیے انٹلیکچوئل پراپرٹی (IP) کی اہمیت بیان کی اور IPO پاکستان کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے خود چیئرپرسن کی قیادت میں ایک بھرپورآگاہی مہم کے ذریعے ا?ئی پی او پاکستان کو قومی نقشے پر لانے میں چیئرپرسن آئی پی او کے آنے والے کردار کو سراہا۔ پی بی جی کے چیئرمین اور چاول کے ایک سرکردہ برا?مد کنندہ جناب علی حسام اصغر نے برا?مدات بالخصوص چاول میں ا?ئی پی کے کردار کو تسلیم کیا اور تاجر برادری کے مسائل اور ا?ئی پی او پاکستان کے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے طور پر ان کی اہمیت کو سمجھنے میں چیئرپرسن ا?ئی پی او کے کردار کو سراہا۔WIPO کے جینیاتی وسائل اور اس سے وابستہ روایتی علم کے بین الاقوامی معاہدے (GRATK) کے حوالے سے انہوں نے پاکستان میں ریسرچ اینڈ پروڈکٹ ڈویلپمنٹ (R&PD) کے لیے اس کے فوائد کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان مقامی وسائل کی مناسب نقشہ سازی کے ذریعے پاکستان کے جینیاتی وسائل اور روایتی علم کی حفاظت کی ضرورت ہے۔ ایل سی سی ا?ئی کی قیادت نے ا?ئی پی ا?ر کی اہمیت اور ا?ئی پی او پاکستان کے متحرک کردار کا اعادہ کیا اور فیصلہ کیا گیا کہ ایل سی سی ا ئی اور آئی پی او پاکستان دونوں کے زیر اہتمام تمام سرکاری اور نجی شعبے کے اسٹیک ہولڈرز کے لیے باقاعدہ ا?گاہی سیشن کا پروگرام شروع کیا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: چیئرپرسن ا ئی پی او ا ئی پی او پاکستان ایل سی سی ا ئی پاکستان کے کردار کو کی اہمیت انہوں نے

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار