سیپا میں ڈپٹی ڈائریکٹر کی چالاکیاں عیاں ( 2 شہروں سے تنخواہ وصولی)
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
چیف سیکریٹری کو حقائق سے آگاہی ، سیکریٹری ماحولیات کا ایکشن ، ذمہ داروں کے تعین کرنے کا حکم
منیر عباسی کے خلاف ایڈیشنل سیکریٹری کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی قائم ، 15 دن میں رپورٹ طلب
محکمہ ماحولیات کے ماتحت سیپا میں چہیتوں کا ایک اور اسکینڈل سامنے آ گیا، ڈپٹی ڈائریکٹر منیر عباسی حیدرآباد آفس سے تنخواہ وصول کرتے رہے، انکوائری کمیٹی قائم ہو گئی۔ جرات کی رپورٹ کے مطابق محکمہ ماحولیات کے ماتحت ادارے سندھ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی میں ڈپٹی ڈائریکٹر منیر احمد عباسی کراچی میں تعیناتی کے باوجود ریجنل آفس حیدرآباد سے بھی تنخواہ وصول کرتے رہے اور چیف سیکریٹری سندھ کے پاس براہ راست کیس پیش کیا، ڈپٹی ڈائریکٹر منیر احمد عباسی کے اقدامات پر سیکریٹری ماحولیات نے ایڈیشنل سیکرٹری کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی قائم کر لی ہے، ڈائریکٹر ایڈمن اینڈ فنانس، سیکشن افسر جنرل اور ڈی ڈی او اختیار رکھنے والے افسر کمیٹی کے ممبر ہونگے، انکوائری کمیٹی کو اختیار دیا گیا ہے وہ ذمہ دار افسران کا تعین کرے اور منیر عباسی کے خلاف کارروائی کی بھی سفارش کرے، انکوائری کمیٹی 15 دن میں رپورٹ مکمل کرے گی اور رپورٹ سیکریٹری ماحولیات کو جمع کروائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: انکوائری کمیٹی ڈپٹی ڈائریکٹر
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔