اسٹاف کی سالانہ کارکردگی سرٹیفیکٹ مرحوم ڈائریکٹر کے نام سے منسوب
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹاؤن میونسپل کارپوریشن صدر کے تعاون سے اسپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن سندھ (سجاس) کے تحت آصف عظیم اور ڈائریکٹر اسپورٹس کے پی ٹی میجر ریٹائرڈ محمود ریاض مرحوم کے لئے منعقدہ تعزیتی اجلاس چیئرمین صدر ٹاؤن منصور شیخ، پاکستان اسپورٹس رائٹرز فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل اصغر عظیم، سجاس کے صدر محمود ریاض، سیکریٹری شاہد عثمان ساٹی، سندھ اولمپک ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل احمد علی راجپوت، پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے نائب چیئرمین وسیم ہاشمی، سافٹ بال فیڈریشن سینئر نائب صدر ڈاکٹر فرحان عیسیٰ، سندھ سافٹ بال ایسوسی ایشن کے سیکریٹری ذیشان مرچنٹ، کمشنر کراچی اسپورٹس ونگ کے ڈائریکٹر غلام محمد، سندھ جوڈو ایسوسی ایشن کے سیکریٹری محمد رفیق، کراچی پورٹ ٹرسٹ کے سابق چیئرمین سیدین رضا زیدی، ڈائریکٹر میڈیا کے پی ٹی محمد شارق، مسز میجر محمود، شیراز آصف، سینئر جرنلسٹس عتیق الرحمان اور زبیر نذیر خان سمیت دیگر نے خطاب کیا، تعزیتی اجلاس میں میونسپل کمشنر صدر ٹاؤن نور حسن جوکھیو اور صدر ٹاؤن کے اکاؤنٹ آفیسر نعیم یوسفی، ڈپٹی ڈائریکٹر میڈیا صدر ٹاؤن آسما ایاز سمیت ٹاؤن ملازمین، سجاس کے عہدیداران و ممبران مختلف کھیلوں کی ایسوسی ایشن کے عہدیداران سمیت دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اپنے خطاب چیئرمین صدر ٹاؤن منصور شیخ نے آصف عظیم اور میجر محمود ریاض کو کھیلوں کا دیوانہ قرار دیا۔ منصور شیخ کا کہنا تھا کہ کے پی ٹی کے ٹرسٹی کی حیثیت سے محمود ریاض اور صدر ٹاؤن کے چیئرمین کی حیثیت سے آصف عظیم کی کھیل اور کھلاڑیوں سے محبت اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا ہوں، آئندہ ٹاؤن ملازمین کی سالانہ کارکردگی رپورٹ پر جاری ہونے والے سرٹیفکیٹ آصف عظیم کے نام سے منسوب ہونگے، پی ایس ڈبلیو ایف کے سیکریٹری جنرل اصغر عظیم، سجاس کے صدر محمود ریاض اور سیکریٹری شاہد ساٹی سمیت دیگر مقررین نے آصف عظیم اور میجر محمود ریاض کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ کھیل اور کھلاڑی اپنے مخلص دوست سے محروم ہوگئے، ہم اپنے دستوں کے مشن کو جاری رکھیں گے، سندھ جوڈو ایسوسی ایشن نے صوبے بھر میں میجر محمود ریاض کے نام سے اکیڈمیز کے قیام کا اعلان کیا، تعزیتی اجلاس سے خطاب کے دوران آصف عظیم کے صاحب زادے شیراز آصف اور مسز میجر محمود ریاض نے صدر ٹاؤن اور سجاس کا شکریہ ادا کیا، ان کا کہنا تھا کہ ہمیں آج معلوم ہوا کہ دنیا سے جانے والے آصف عظیم اور محمود ریاض کھیل اور کھلاڑیوں کے دلوں پر راج کرتے تھے، تقریب کے اختتام پر مرحومین کے لئے دعائے مغفرت کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میجر محمود ریاض ایسوسی ایشن کے ا صف عظیم اور کے سیکریٹری صدر ٹاو ن
پڑھیں:
کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
صدر مسلم لیگ (ن) نوازشریف(nawaz shrif) کا کہنا ہے کہ کسی پر تنقید کرکے،کسی کی برائی کرکے ووٹ نہیں مانگتا بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔
گلگت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، حکومت ملنے پر کیوں اس علاقے کو نظر انداز کیا گیا؟
کیوں اس علاقے پر توجہ نہیں دی گئی؟ جب وزیراعظم تھا تو کئی بار گلگت آیا اور اسکردو گیا تھا، کئی برسوں بعد آپ سے گفتگو کرکے بہت خوشی ہورہی ہے۔
نوازشریف نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بننے سے بھی پہلے گلگت،اسکردو آیاتھا، گلگت، بلتستان، اسکردو سے مجھے دلی محبت ہے، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ گلگت کہاں ہے؟ میرا دل روتا ہے کہ آپ کا پیسہ آپ پر کیوں نہیں لگا یاگیا۔
صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ کسی ایک پارٹی نے یہاں منصوبے کی بنیاد نہیں رکھی، جومیرےزمانے میں ایئرپورٹ تھا، آج بھی وہی ہے، شہبازشریف سے کہوں گا اس ایئرپورٹ کو بڑا کریں، جیٹ طیارے لینڈ کرنے اور ٹیک آف کی گنجائش پیدا کریں گے۔
نوازشریف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں لواری ٹنل 70سال سے مکمل نہیں ہورہی تھی، ہم نے اربوں روپےخرچ کرکے لواری ٹنل مکمل کی، یہاں منصوبہ شروع ہوتا ہے تو مکمل ہونے کا نام نہیں لیتا۔
گلگت بلتستان میں 10،10 اور12،12گھنٹےکی لوڈشیڈنگ منظور نہیں۔ ووٹ ملے نہ ملے، آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کرسکتے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو یہاں ہر دوسرے تیسرے ماہ آتارہوں گا، اپنی نگرانی میں منصوبے مکمل کراؤں گا، تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر آپ کے حق میں فیصلہ کریں گے۔ تجارت بڑھنے پر گلگت بلتستان بہت خوشحال ہوجائے گا۔
مزید پڑھیں:پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
نوازشریف نے کہا کہ مجھے کیوں نکالا؟ کیوں مجھے ملک چھوڑ کر جانا پڑا؟ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا۔ قصور آپ کا بھی ہے۔