پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید کو کوٹ لکھپت جیل سے رہا کر دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
لاہور: تحریک انصاف کی متحرک خاتون کارکن صنم جاوید کو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل سے رہا کر دیا گیا۔
لاہور ہائی کورٹ نے دو روز قبل صنم جاوید کی رہائی کا حکم جاری کیا تھا، جس پر عملدرآمد کرتے ہوئے آج انہیں جیل سے رہا کیا گیا۔ رہائی کے موقع پر ان پر گل پاشی کی گئی اور وہ گھر روانہ ہوگئیں۔
آخرکار صنم جاوید کو رہا کر دیا گیا pic.
— Muqadas Farooq Awan (@muqadasawann) July 2, 2025
یاد رہے کہ صنم جاوید کو ان کے شوہر پروفیسر عتیق کے ہمراہ 27 اپریل کو کوٹ لکھپت جیل کے باہر سے حراست میں لیا گیا تھا۔ وہ 9 مئی کیسز کی عدالتی سماعت کے بعد جیل سے باہر نکلی تھیں جب پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق صنم جاوید کو تھانہ اسلام پورہ میں درج مقدمہ نمبر 486 کے تحت گرفتار کیا گیا، جس میں ان پر روڈ بلاک کرنے، اشتعال انگیز اور ریاست مخالف نعرے بازی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
اس مقدمے میں عالیہ حمزہ، نازیہ بلوچ، انتظار حسین پنجوتہ سمیت 35 نامعلوم افراد کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ 8 فروری کو تھانہ اسلام پورہ میں پولیس کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید رہا عمران خان رہائی کوٹ لکھپت جیل وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان تحریک انصاف پی ٹی ا ئی پی ٹی ا ئی کارکن صنم جاوید رہا عمران خان رہائی کوٹ لکھپت جیل وی نیوز کوٹ لکھپت جیل صنم جاوید کو کیا گیا جیل سے
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔