صنم جاوید کو کوٹ لکھپت جیل سے رہا کر دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
کوٹ لکھپت ( نیوزڈیسک) سیاسی کارکن پی ٹی آئی راہنما صنم جاوید کو کوٹ لکھپت جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔ ان کی رہائی لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے دو روز قبل دی جانے والی ضمانت کے بعد عمل میں آئی۔ عدالت نے صنم جاوید کے خلاف درج مقدمات میں ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر رہائی دینے کا حکم دیا تھا۔
جیل انتظامیہ نے عدالتی احکامات موصول ہونے کے بعد تمام ضروری قانونی کارروائی مکمل کی، جس کے بعد صنم جاوید کو آج جیل سے رہا کیا گیا۔ رہائی کے موقع پر ان کے اہل خانہ اور قریبی ساتھی جیل کے باہر موجود تھے۔ جیل سے نکلتے ہی صنم جاوید سیدھا اپنے گھر روانہ ہو گئیں۔
یاد رہے کہ صنم جاوید کو کچھ عرصہ قبل مختلف سیاسی جلسوں اور مظاہروں کے دوران گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد وہ کوٹ لکھپت جیل میں قید تھیں۔ ان کی رہائی کو سیاسی حلقوں میں اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
مزیدپڑھیں:ظہران ممدانی کو ہر قیمت پر نیویارک کا میئر بننے سے روکوں گا“ ٹرمپ کی دھمکی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: صنم جاوید کو کوٹ لکھپت جیل سے کے بعد
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔