سیاسی میدان کے چیتن شرما اور جاوید میانداد
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
عمران خان پاکستانی سیاست کے میدان میں کم و بیش ویسے ہی وارد ہوئے جیسے میچ کے دوران گراؤنڈ میں کہیں سے کوئی کٹی پتنگ اچانک آجائے اور تماشائی کھیل دیکھنے کے بجائے اسی کے پیچھے بھاگ لیں۔
دوسری طرف شہباز شریف کا کرکٹ کے میدانوں سے دور دور تک کوئی تعلق نظر نہیں، اور ان کا اس بارے میں شاید مبلغ علم انہی واقعات پر مبنی ہو جو نواز شریف نے جناح باغ میں کرکٹ کھیلنے کے بعد شام کی چائے پر مرچ مصالحہ لگا کر انہیں سنائے ہوں۔
آمنے سامنے آنے کے بعد دونوں میں سے کس نے کیا کس کو بولڈ، اور کس نے لگایا کس کو چھکا، آئیے دیکھتے ہیں۔
سیاست عمران خان کی ایسی ہے نہ ہی شہباز شریف کی کہ آنکھیں بند کرکے یقین کیا جا سکے، دونوں میں ہی کہیں نہ کہیں کافی ’اندھیرا‘ موجود ہے اور فرق اگر کوئی ہے تو وہ یہ کہ عمران خان کہا کرتے تھے کہ کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے، جبکہ شہباز شریف کا انداز بتاتا ہے کہ کھیل کر نکالیں گے۔
ذرا ’سیم پیج‘ والے دور پر نگاہ ڈالیے کوئی سوچ سکتا تھا کہ طاقت کے اس مُڈھ کو اگلے کم سے کم 10 سال تک ہلایا بھی جا سکے گا۔
پھر صورت حال بدلی اور بدلتی چلی گئی ہے بمع سیم پیج کے، بلکہ اب تو صورت حال ٹچ بٹنوں کی جوڑی والی ہے۔
تقریباً ڈھائی سال سے کپتان جیل میں ہیں لیکن بہرحال ان کی پارٹی بطور اپوزیشن پارلیمنٹ میں موجود رہی جبکہ کے پی میں ان کے حکومت بھی ہے بارہ سال سے۔
پچھلے دنوں صورت حال میں ڈرامائی تبدیلی اس وقت آئی جب ان کی ہمشیرہ نے افسوس سے کہا کہ ’وہ مائنس ہو گئے ہیں‘ اور اب تو مخصوص نشستوں کے بارے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی آ گیا ہے اور کے پی میں جے یو آئی اور ن کی مخلوط حکومت کی چہ میگوئیاں ہی نہیں ہو رہیں راہ بھی ہموار ہوتی نظر آ رہی ہے۔
یعنی تقریباً ویسی ہی صورت حال پیدا ہو چکی ہے جیسی 1986 میں ایشیا کپ کے فائنل میں شارجہ میں تھی۔ انڈین بولر چیتن شرما بال کرا رہے تھے اور کریز پر جاوید میانداد موجود تھے۔ آخری گیند تھی اور چار سکور چاہیے تھے۔
اس کے بعد میچ میں کیا ہوا بتانے کی ضرورت نہیں اور جاوید میانداد نے اچھے خاصے ٹیلنٹڈ بولر کا بوریا بستر گول کر دیا۔
اگرچہ اس کے بعد بھی چیتن شرما کرکٹ کھیلتے رہے اور ایک موقع پر ہیٹ ٹرک بھی کی تاہم شارجہ والا واقعہ ان کے کیریئر کو کسی لہسوڑے کی طرح چمٹ گیا اور وہ کب ختم ہوا کسی کو پتہ ہی نہیں چلا۔
اب اس صورت حال کو ذرا سیاست کے تناظر میں دیکھیے تو کچھ ایسی تصویر ابھرتی ہے کہ عمران خان آپ کو اسی انڈین بولر کی طرح دکھائی دیں گے جس کا تجربہ پاکستانی بلے باز سے کم تھا، کچھ ایسا ہی معاملہ عمران خان اور شہباز شریف کے ساتھ بھی ہے۔
چیتن شرما بھی شروع میں جلدی مہشور نہ ہو سکے تھے مگر پھر آگے بڑھتے گئے بالکل اسی طرح عمران خان بھی اگرچہ 90 کی دہائی کے وسط میں سیاست میں قدم رکھ چکے تھے تاہم زیادہ مقبول نہ ہو سکے اس دوران انہوں نے پرویز مشرف کا بھی ساتھ دیا۔
بہرحال بے نظیر بھٹو شہادت کے بعد 2008 میں جب پی پی کو حکومت ملی تو یکدم ان کی مقبولیت بڑھنے لگی اور کچھ برس بعد لاہور مینار پاکستان کا وہ مشہور جلسہ ہوا جس نے ملکی سیاست کا رخ بدل دیا۔
2013 کے الیکشن میں وہ مرکز میں تو حکومت میں نہ آ سکے، تاہم کے پی ضرور حاصل کر لیا۔ اس دوران وہ مرکز اور پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت پر مسلسل احتجاج کے تازیانے برساتے رہے اور ’سیاسی کزن‘ کی معیت میں 126 روز والا مشہور دھرنا بھی دیا۔
قصہ مختصر 2018 کے الیکشن میں وہ مرکز، پنجاب، خیبرپختونخوا حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے اور اونچی اڑان میں رہے۔
اب پھر پلٹیے میچ کی طرف، جاوید میانداد کے ساتھ سپن بولر توصیف احمد کریز پر موجود تھے اور سیکنڈ لاسٹ گیند کا سامنا بھی وہی کر رہے تھے، اس سے قبل جاوید میانداد نے ان کے قریب جا کر کان میں کچھ کہا تھا جو سوائے اس کے کچھ اور نہیں ہو سکتا تھا کہ کسی طرح ایک رن لے کر مجھے سامنے آنے دو۔ ایسا ہی ہوا اور پھر آئے جاوید میانداد چیتن شرما کے مقابل۔
جب آخری گیند ہو اور چار سکور چاہیے ہوں تو صرف بلے باز ہی نہیں بولر پر بھی کافی پریشر ہوتا ہے اور وہ بھی کسی ایسے ملک کے خلاف جس کو صرف کرکٹ ہی نہیں بلکہ دیگر بہت سے میدانوں میں بھی حریف سمجھا جاتا ہو۔
جاوید میانداد کئی بار انٹرویوز میں بتا چکے ہیں کہ بات چوکے سے بھی نہیں بننی تھی اور صرف چھکے کی آپشن تھی اس لیے یہی سوچا تھا کہ کسی طرح بال کو باؤنڈری کے باہر پھینکا جائے۔
دوسری جانب چیتن شرما کو بھی اس بات کا احساس تھا اس لیے انہوں نے تیز ترین گیند کرانے کا نہ صرف سوچا بلکہ اس پر عمل بھی کیا اور اس کوشش میں فل ٹاس کرا دی جو جاوید میانداد جیسے بلے باز کے مقابل ایسی غلطی تھی کہ خمیازہ رکنے والا نہیں تھا۔
اس میچ کی صورت حال کا سیاسی میدان سے موازنہ کرنے پر کچھ لوگ سوال اٹھا سکتے ہیں کہ چیتن شرما نے تو لوز گیند پھینکی تھی، سیاست میں عمران خان نے ایسا موقع کب دیا تو عرض ہے کہ انہوں نے ایک نہیں دو، دو پھینکیں۔
جب ان کو عدم اعتماد کی تحریک کے نتیجے میں کرسی سے اتارا گیا اور بقول ان کے حامی یوٹیوبرز کے ’وہ صرف ڈائری اٹھا کر چلتے بنے‘ تو اس کے بعد ہی انہوں نے وہ فل ٹاس پھینک دی تھی جس پر چھکے جیسی صورت حال بنی۔
ذرا یاد کیجیے کہ جب مرکز میں ان کی حکومت ختم ہوئی تو اس وقت پنجاب، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر میں ان کی حکومتیں موجود تھیں، جن کو انہوں نے خود ہی تحلیل کیا اور یہی تھی پہلی حلوہ بال۔
اب ذرا یہ خیال ذہن میں لائیے کہ مرکز سے نکلنے کے بعد بھی وہ ان حکومتوں کو برقرار رکھتے تو کیا صورت بنتی، یہی کہ ان کی پوزیشن مستحکم ہوتی۔ وہ اپنی ساری توجہ ان حکومتوں پر مرکوز کرتے اور ایسا کچھ کر کے دکھاتے کہ مرکز میں ان کی کمی محسوس کی جاتی اور کے پی میں بیٹھ کر شاید گرفتاری سے بھی بچے رہتے۔
اس طرح شاید ان کو وہ لانگ مارچ بھی نہ کرنا پڑتا جس میں مبینہ طور پر گولی کھانے کے باوجود بھی وہ ہمدردی نہ سمیٹ سکے جو ایسے لیڈرز کے حصے میں آیا کرتی ہے۔
ان کا یہ داؤ بھی رائیگاں چلا گیا کہ 3 مہینے کے اندر الیکشن ہو جائیں گے اور مجموعی طور پر پوری سیاسی فضا ان کے خلاف بنتی چلی گئی یہ اور بات کہ وہ سیاسی طور پر مقبول رہے اور الیکشن میں بلے کے نشان کے بغیر بھی خیبرپختونخوا میں کلین سویپ کرنے میں کامیاب رہے۔
مگر تیسری دنیا کے ممالک میں صرف مقبولیت ہی سب کچھ نہیں ہوتی، بلکہ فل ٹاس ٹائپ گیندوں سے بھی گریز کرنا پڑتا ہے، جن میں سے ایک تو وہ کرا چکے تھے دوسری ’نو مئی‘ کی شکل میں کرا دی۔
پس ثابت ہوا کہ عمران خان سیاست کے چیتن شرما ہیں اور شہباز شریف جاوید میانداد، چھکا وہاں بھی لگا اور یہاں بھی، فرق اگر کچھ ہے تو شاید امپائرز کا ہو۔
نوٹ: جو دوست عمران خان کو ایک انڈین بولر سے تشبیہہ دینے پر معترض ہوں وہ 87 کے ورلڈ کپ کو ذہن میں رکھتے ہوئے انہیں سلیم جعفر اور شہباز شریف کو رچرڈ بھی سمجھ سکتے ہیں۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جاوید میانداد سابق وزیر اعظم نواز شریف جاوید میانداد شہباز شریف چیتن شرما صورت حال انہوں نے ہی نہیں ہے اور کے بعد
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔