معافی تلافی کرکے جیل سے باہر نکلنا ہی عملیت پسندی ہے، سہیل وڑائچ کا عمران خان کو مشورہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اگست 2025ء ) معروف صحافی، تجزیہ کار و کالم نگار سہیل وڑائچ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو مشورہ دیا ہے کہ معافی تلافی سے کام ممکن ہے تو یہ فوراً کرکے جیل سے باہر نکلنا ہی عملیت پسندی ہے۔ روزنامہ جنگ کیلئے اپنے کالم میں انہوں نے لکھا کہ ڈیئرقیدی جی! سیاسی تضادات نے ایسی صورتحال پیدا کر دی ہے کہ آپ کے چاہنے والے آپ کو چوم چوم کر مارنے پر تلے ہوئے ہیں بظاہر یہ آپ سے محبت کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ انقلاب اور احتجاج کے ذریعے آپ کو تخت پر لا بٹھائیں مگر حقیقت یہ ہے کہ اس بیانیے نے آپ کو یرغمال بنا کر آپ کے سیاسی راستے مسدود کر دیئے ہیں ،آہ و بکا، جھوٹ پر مبنی کہانیوں اور دشمن کی توپوں میں کیڑے پڑنے کی بدعاؤں سے حالات نہیں بدلتے ۔
ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کا خیال تھا ملک کی اقتصادی حالت نازک ہے یا تویہ ڈیفالٹ ہو کر رہے گا یا اقتصادی بدحالی سے انارکی پھیل جائے گی یہ نظریہ تحریک انصاف کے ہر اجلاس میں باور کروایا جاتا تھا مگر یہ مکمل طور پر غلط ثابت ہوا مقتدرہ اور حکومت نے ملک کو اقتصادی بحران سے نکال لیا، بار بار تحریک انصاف کے اندازے اور تجزیے غلط ثابت ہوئے، بیانیے ناکام ہوئے خواہشیں مکمل طور پر پٹتی رہیں مگر یوٹیوبرز ہر شکست کے بعد ایک نئی کہانی تراش کر آپ کو مسلسل جیل میں رکھنا چاہتے ہیں۔(جاری ہے)
سہیل وڑائچ لکھتے ہیں کہ قیدی جی! جان ہے تو جہاں ہے پاکستان بھٹو جیسا سانحہ دوبارہ نہیں دیکھنا چاہتا نہ ہی آپ کے کروڑوں حامیوں کو مایوسی اور بے بسی میں دھکیلنا چاہتا ہے، معافی تلافی سے کام ممکن ہے تو یہ فورا ًکر کے جیل سے باہر نکلنا ہی عملیت پسندی ہے تخیل پرستی تو ایک لمبی اور صبر آزما جدوجہد ہے جو جمہوری آئیڈیلز کیلئے کی جاتی ہے، آپ تو ہمیشہ مقتدرہ سے ملکر حکومت کرنے کو جائز سمجھتے رہے ہیں اب بھی آپ کا اس حوالے سے کوئی اصولی اختلاف نہیں، آپ کا اختلاف تو ذاتی ہے اس مشکل وقت سے نکلیں اپنی پارٹی کو مستقبل کی کامیاب گورننس کیلئے تیار کریں۔ تجزیہ کار نے مزید لکھا کہ ڈیئر قیدی جی! آپ تو بار بار کہا کرتے تھے یوٹرن اچھے ہوتے ہیں ایک یوٹرن ملکی استحکام کیلئے بھی لے لیں اگلے انتخابات تک چُپ کا روزہ رکھ لیں اور اپنا سارا زور اگلے الیکشن کی شفافیت کو یقینی بنانے پر لگائیں، یہ ڈیل سب کیلئے قابل قبول ہوگی حکومت کو فری ہینڈ ملے گا، مقتدرہ کے شبہات دور ہو جائیں گے تحریک انصاف کو نہ صرف اپنےلیڈر کی رہائی ملے گی پارلیمان کے اندر کام کرنے کا فری ہینڈ مل جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیئر قیدی ! کوئی معجزہ یا حادثہ ہو جائے تو اور بات ہے وگرنہ آپ کی موجودہ حکمت عملی اور یوٹیوبرز کی لیڈر شپ میں کوئی بڑا سیاسی فیصلہ ممکن نہیں، حقیقت تو یہ ہے کہ اب تحریک انصاف کے چیئرمین آپ نہیں بلکہ وُہ یوٹیوبر ز ہیں جو آپ کی پارٹی سے آپ کے نام پر جذبات سے کھیلتے ہیں ،نہ کوئی لیڈر ا ن کی سکروٹنی سے باہر ہے ،نہ مقتدرہ ،نہ حکومت ،نہ میڈیا اور نہ ہی آپ کا خاندان، آپ عملی طور پر اپنے ہی چاہنے والوں کے یرغمالی اور روبوٹ بن چکے ہیں آپ ان کی مرضی کیخلاف فیصلہ کرنے کے قابل ہی نہیں رہے حالانکہ عوام آپ کے غیر مقبول فیصلے کو بھی قبول کریں گے آپ رہائی کیلئے جو بھی ڈیل کریں گے آپ کی رہائی شرائط سے کہیں بڑھ کر فتح ثابت ہوگی۔ سہیل وڑائچ نے عمران خان سے کہا کہ ڈیئر قیدی جان ! بظاہر آپ کے حمایتی نظرآنے والے، دراصل اس وقت تارا مسیح کا کردار ادا کر رہے ہیں آپ آنکھیں کھولیں دوست دشمن کی پہچان کریں، آپ کی رہائی کے راستے میں جو بھی فرد یا شرط حائل ہےوہ آپ کی دشمن ہے اور ہروہ شرط یا فرد جو آپکو رہائی دلانا چاہتا ہے وہ آپ کا مخلص دوست ہے، تاریخ آپ کے دروازے پر دستک دے رہی ہے فیصلہ آپ نے کرنا ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے تحریک انصاف سہیل وڑائچ سے باہر
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔