شیری رحمن نے کشمیریوں کی تاریخی و مزاحمتی کتابوں پر مودی سرکار کی پابندی کو فسطائیت کی بدترین مثال قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 اگست2025ء)نائب صدر پیپلزپارٹی سینیٹر شیری رحمان نے کشمیریوں کی تاریخی و مزاحمتی کتابوں پر مودی سرکار کی پابندی کو فسطائیت کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کا یہ عمل کشمیریوں کی فکری آزادی پر حملہ ہے۔ اپنے بیان میں شیری رحمن نے کہاکہ کشمیر کی فکری آزادی پر پابندی بھارت کے غیر جمہوری عزائم کا عکاس ہے، کتابوں سے خوف کھانے والا ملک خود اپنی ناکامی کا اعتراف کر رہا ہے۔
(جاری ہے)
انہوںنے کہاکہ تاریخ کو دبانے سے حقائق مٹ نہیں جاتے، بلکہ اور نمایاں ہو جاتے ہیں، اظہار رائے کا گلا گھونٹنا بھارت کے فاشسٹ رجحانات کو ظاہر کرتا ہے۔ شیری رحمن نے کہاکہ بھارت کی پالیسیوں نے کشمیری نوجوانوں کو فکری غلامی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ پابندیاں لگا کر بھارت صرف اپنی عالمی ساکھ کو مزید نقصان پہنچا رہا ہے، سچائی کو دبانے کی ہر کوشش تاریخ میں ناکام ہوئی ہے، بھارت بھی ناکام ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ کتابیں چھین کر بھارت کشمیری شناخت مٹانا چاہتا ہے، پابندیوں سے نظریات کو روکا نہیں جا سکتا، بھارت یہ سمجھنے سے قاصر ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے نے کہاکہ
پڑھیں:
کشمیر کا فیصلہ صرف کشمیری عوام کریں گے،بلاول بھٹو
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ صرف کشمیری عوام کا حق ہے اور اس بارے میں کوئی دوسرا فیصلہ نہیں کر سکتا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کشمیر کا فیصلہ صرف و صرف کشمیر کرے گا، نہ اسلام آباد، نہ پنجاب، نہ سندھ، نہ بلوچستان اور نہ ہی خیبرپختونخوا اس کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ صرف کشمیری عوام کی مرضی اور رائے کے مطابق ہونا چاہیے، کیونکہ یہی ان کا بنیادی اور جمہوری حق ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے حوالے سے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ27 جولائی کو برابری کے حق اور عوامی نمائندگی کے لیے تیر کے نشان پر مہر لگا کر پاکستان پیپلز پارٹی کے نامزد امیدواروں کو کامیاب بنایا جائے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ عوام کی حمایت سے منتخب ہونے والے نمائندے کشمیری عوام کے حقوق اور مستقبل کے فیصلوں میں مؤثر کردار ادا کریں گے۔
واضح رہے کہ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات مرحلہ وار منعقد کیے جا رہے ہیں، جن کے پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن میں پولنگ ہوگی، جبکہ دیگر مراحل اگست کے پہلے عشرے میں مکمل کیے جائیں گے۔