دنیا کے بیشتر ممالک سے الگ، پاکستان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات میں اپنے پتے درست کھیل لیے ہیں، اور اب ان چند ممالک میں شامل ہے جنہوں نے امریکا کے ساتھ کسی بڑے تعطل کے بغیر تجارتی معاہدہ مکمل کرلیا، جبکہ سوئٹزرلینڈ، برازیل سمیت روایتی حریف بھارت اس میں ناکام رہے۔

بلوم برگ نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسلام آباد اور ٹرمپ وائٹ ہاؤس کے درمیان پہلی اہم پیش رفت اس وقت ہوئی جب رواں سال کے اوائل میں بھارت اور پاکستان جنگ کے قریب پہنچ گئے تھے، اور دونوں جانب سے میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:

اس دوران صدر ٹرمپ نے جنگ بندی کا اعلان کیا، جسے پاکستان نے خوش آمدید کہا، مگر بھارت نے امریکی صدر کے ثالثی کے دعوے کو مسترد کر دیا، بعد ازاں بھارت کے امریکا سے تعلقات بتدریج بگڑتے چلے گئے۔

پاکستان کے پاس وہ اثاثے ہیں جنہوں نے صدر ٹرمپ کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی، دنیا میں سونے اور تانبے کے سب سے بڑے غیر استعمال شدہ ذخائر میں سے کچھ پاکستان میں موجود ہیں، جس سے یہ قیاس آرائیاں بڑھ گئی ہیں کہ امریکا یوکرین کی طرح معدنیات کا کوئی معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔

مزید پڑھیں:

بہرحال پاکستان نے امریکی سرمایہ کاری بھی حاصل کی، اور صدر ٹرمپ نے ایک پوسٹ میں پاکستان کے ’وسیع تیل کے ذخائر‘ کو ترقی دینے کے لیے مل کر کام کرنے کا عندیہ دیا۔

بلوم برگ کے مطابق کرپٹو کرنسی بھی تعلقات میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، صدر ٹرمپ کی حمایت یافتہ کمپنی ورلڈ لبرٹی فائنانشل کے نمائندے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے دوران اسلام آباد پہنچے اور ڈیجیٹل کرنسی کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کے ساتھ شراکت داری کا اعلان کیا۔

مزید پڑھیں:

یہ تمام پیش رفت ایک غیر متوقع ملاقات پر منتج ہوئی، جب پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھایا، اس کے کچھ ہی عرصے بعد پاکستان کی حکومت نے ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کا اعلان کیا۔

یہ صورتحال حالیہ برسوں میں امریکا سے تعلقات میں بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے، کیونکہ بائیڈن انتظامیہ کے ساتھ پاکستان کے شاذونادر ہی اعلیٰ سطحی روابط ہوئے تھے، اس کے برعکس بھارت کو طویل عرصے تک چین کے خلاف ایک اہم اتحادی کے طور پر امریکا کی جانب سے فوقیت دی جاتی رہی۔

مزید پڑھیں:

دوسری جانب پاکستان اب بھی مسائل سے دوچار ہے، یہ ماحولیاتی تبدیلی کی زد پر ہے اور صرف آئی ایم ایف کے قرضوں کی مدد سے معیشت کو مستحکم کر پایا ہے۔ تاہم اسلام آباد میں اس بات پر اطمینان پایا جا رہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ گرم جوش تعلقات کا امکان روشن ہے۔ ’۔۔۔اور یہ اعتماد اس وقت اور بھی خوشگوار محسوس ہوتا ہے جب بھارت دباؤ میں ہے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آئی ایم ایف اسلام آباد امریکی صدر برازیل بلوم برگ بھارت پاکستان تجارتی معاہدہ سوئٹزرلینڈ صدر ٹرمپ فیلڈ مارشل عاصم منیر وائٹ ہاؤس.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف اسلام آباد امریکی صدر برازیل بلوم برگ بھارت پاکستان تجارتی معاہدہ سوئٹزرلینڈ فیلڈ مارشل عاصم منیر وائٹ ہاؤس اسلام آباد پاکستان کے پاکستان نے بلوم برگ کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟

ہند رجب فاؤنڈیشن نے بھارتی پولیس، وزارت داخلہ اور بیورو آف امیگریشن سے ہماچل پردیش میں تعطیلات گزارنے والے اسرائیلی فوج کے ریزروسٹ اہلکار ایٹن گل بوا کی فوری گرفتاری کا

مطالبہ کیا ہے۔

فاؤنڈیشن کے مطابق مذکورہ اسرائیلی اہلکار پر غزہ میں ’انتقامی کارروائیوں کے طور پر پورے رہائشی بلاکس کی منظم تباہی‘ کا الزام ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: فلسطینی بچی پر مبنی آسکر نامزد فلم  ’دی وائس آف ہند رجب‘ پر پابندی عائد

فاؤنڈیشن کے مطابق گل بوا، جو اسرائیلی فوج کی 271ویں کامبیٹ انجینئرنگ بٹالین میں ریزروسٹ کے طور پر خدمات انجام دے چکا ہے، نے شہری عمارتوں کی تباہی کو خود دستاویزی شکل دی۔

اس نے ایسی ویڈیوز بھی بنائیں جن میں وہ خان یونس اور رفح میں شہری گھروں کی مسماری کے احکامات دیتے، ان پر عمل درآمد کرتے اور اس عمل کا جشن مناتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔

The @hindrajabfoundation filed an urgent complaint in ???????? #India, demanding the immediate arrest of Eitan Gilboa, Israeli national and reservist in the 271st Combat Engineering Battalion. Gilboa is currently vacationing in Old Manali and Gondla Village, Himachal Pradesh.
Full… pic.twitter.com/6nSTt3uk25

— The Hind Rajab Foundation (@HindRFoundation) June 2, 2026

فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ گل بوا کے خلاف متعدد ایسے واقعات کے شواہد موجود ہیں جن میں اس نے شہری بنیادی ڈھانچے کی تباہی میں حصہ لیا۔

’مارچ 30 موومنٹ‘ کے ذیلی ادارے ہند رجب فاؤنڈیشن نے کہا کہ گل بوا کے مبینہ اقدامات چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہیں۔

فاؤنڈیشن کے مطابق بھارت، جو اس کنونشن کا فریق ہے، قانونی طور پر اس بات کا پابند ہے کہ سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب افراد کی تلاش کرے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کرے،

خواہ ان کی شہریت کچھ بھی ہو۔

مزید پڑھیں: اسرائیلی جنرل کو اعزاز دیے جانے کے بعد معروف ہدایتکارہ کا ایوارڈ لینے سے انکار

فاؤنڈیشن نے مزید کہا کہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 51(سی) کے تحت بھی ریاست بین الاقوامی قانون کے احترام کو فروغ دینے کی پابند ہے، لہٰذا نئی دہلی پر اس معاملے میں کارروائی کی ذمہ داری

عائد ہوتی ہے۔

فاؤنڈیشن کے مطابق اس کے جنرل ڈائریکٹر دیاب ابو جحجہ نے کہا کہ گل بوا کوئی سیاح نہیں بلکہ ایک جنگی مجرم ہے جو اپنے جرائم کے نتائج سے بچتے ہوئے اس وقت بھارت کی مہمان

نوازی سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔

The Hind Rajab Foundation (HRF), a Belgium-based organisation pursuing legal action against Israeli military personnel across multiple countries, has filed a complaint with Indian authorities seeking the arrest of an Israeli reservist currently travelling in Himachal Pradesh over…

— The Siasat Daily (@TheSiasatDaily) June 2, 2026

’اس نے خود عوامی طور پر ایسی ویڈیوز اور مواد شائع کیا ہے جن میں وہ غزہ کے پورے محلوں کو راکھ اور ملبے میں تبدیل کرتا دکھائی دیتا ہے، اور ان کارروائیوں کو انتقامی جذبے کے تحت

ہلاک ہونے والے فوجیوں کے نام منسوب کرتا ہے۔‘

مزید پڑھیں: بیلجیئم نے اسرائیلی فوجیوں کے خلاف جنگی جرائم کا مقدمہ آئی سی سی کو بھجوا دیا

دیاب ابو جحجہ نے بھارتی حکام سے فوری کارروائی اور گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو اپنی سرزمین ان افراد کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں بننے دینی چاہیے جو شہری جانوں کی

تباہی پر فخر کرتے ہیں۔

فاؤنڈیشن نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے میں جوابدہی کے حصول کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی اور اس کا مؤقف ہے کہ مشتبہ شخص اس وقت بھارت میں موجود ہے، اس لیے کارروائی

کی ذمہ داری بھی بھارت پر عائد ہوتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی فوج اہلکار بھارت بیورو آف امیگریشن پولیس غزہ فاؤنڈیشن نئی دہلی ہماچل پردیش ہند رجب وزارت داخلہ

متعلقہ مضامین

  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار