ٹرمپ نے ایک اور جنگ رکوا دی، آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT
امریکی صدر نے آذربائیجان اور آرمینیا کے سربراہان کے ساتھ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آذربائیجان اور آرمینیا تجارت اور معیشت کو ترجیح دیں گے، توانائی، تجارت اور ٹیکنالوجی میں دونوں ملکوں سے دو طرفہ معاہدہ ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر نے ایک اور امن معاہدہ کرا دیا، آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان مکمل جنگ بندی معاہدے پر دستخط کرا دیئے۔ امریکی صدر نے آذربائیجان اور آرمینیا کے سربراہان کے ساتھ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آذربائیجان اور آرمینیا تجارت اور معیشت کو ترجیح دیں گے، توانائی، تجارت اور ٹیکنالوجی میں دونوں ملکوں سے دو طرفہ معاہدہ ہوگا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میں جنگیں نہیں چاہتا، امن اور تجارت چاہتا ہوں، روس سے ڈیل آخری مرحلے میں ہے، صدر پیوٹن اور زیلنسکی سے جلد ملاقات ہوگی، روس اور یوکرین اب امن چاہتے ہیں۔
آذربائیجان اور آرمینیا نے صدر ٹرمپ کیلئے نوبیل انعام کا مطالبہ کر دیا، ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاک بھارت جنگ بندی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملک بڑی جنگ کی طرف جارہے تھے، کہا لڑائی نہیں تجارت کرو، پاکستان اور بھارت کے راہنماؤں نے دانشمندی کا مظاہرہ کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ا ذربائیجان اور ا رمینیا کے تجارت اور کہا کہ
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔