پی ٹی آئی کو مذاکرات کی دعوت ، بلاول کی وزیراعظم سے ملاقات سیاسی نہیں تھی: رانا ثناء
اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ+ این این آئی) وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے تحریک انصاف کو سپیکر آفس میں مذاکرات کی دعوت دے دی۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہاکہ وزیراعظم نے تو کہا ہے ملک کی بہتری کیلئے آپس میں بیٹھ جائیں۔ سپیکر آفس میں وزیراعظم کو بھی بلا لیں گے۔ ضمنی الیکشن کے بائیکاٹ سے پی ٹی آئی کی مشکلات بڑھیں گی۔ رانا ثناء اللہ نے کہاکہ بائیکاٹ سے معاملات نہیں سنبھلتے، سسٹم میں رہ کر ہی جدوجہد کی جاسکتی ہے۔ بلاول بھٹو کی وزیراعظم سے ملاقات کا سیاسی ایجنڈا نہیں تھا۔ وہ وزیراعظم کے کزن کے انتقال پر تعزیت کیلئے آئے تھے۔ آئندہ دو تین سال میں ملک کے کئی مسائل حل ہو جائیں گے۔ بانی پی ٹی آئی کے بیٹے اس صوتحال میں نہیں آئیں گے۔ اگر بانی پی ٹی آئی کے بچے ویزا مانگیں تو انہیں دینا چاہئے۔ نو مئی کے فیصلے ہو گئے، ان کے پاس اپیل کا حق موجود ہے۔ اگر فیصلے نہ ہوں تو بنانا ریپبلک بنانے والی بات ہے۔ کل کو جو اٹھے اور جہاں چاہے حملہ آور ہو جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔