وزیراعظم کی ہدایت پر فلسطین کے مظلوم شہریوں کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں، عطاتارڑ
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر مزید دو چارٹرڈ طیاروں کے ذریعے 200 ٹن امدادی سامان غزہ کے نہتے اور مظلوم شہریوں کے لیے روانہ کیا جا رہا ہے، اب تک امدادی سامان پر مشتمل 18 جہاز غزہ روانہ کیے جاچکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے غزہ کے عوام کے لیے انسانی امداد کی ایک اور کھیپ روانہ کردی
جمعہ کو نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے زیر اہتمام امدادی سامان کی روانگی کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر فلسطین کے مظلوم شہریوں کی فلاح و بہبود کے لئے عملی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں، ہر فورم پر مظلوم اور نہتے فلسطینیوں کی آواز اٹھائی جارہی ہے، فلسطینی طلبا پاکستان میں اپنی میڈیکل تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں، امدادی سامان کی فراہمی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ہر فورم پر مظلوم اور نہتے فلسطینیوں کی آواز بلند کی، پاکستان فلسطینی نہتے شہریوں پر اسرائیل کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم کی نہ صرف مذمت کرتا ہے بلکہ اپنے فلسطینی بہن بھائیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر پاکستان کا غزہ سے یکجہتی کا سفر جاری ????????????
اب تک 18 طیارے امداد پہنچا چکے، آج مزید 200 ٹن راشن و ادویات روانہ۔ ہم مظلوم فلسطینی عوام کے ساتھ ہیں اور رہیں گے، ان شاء اللہ ظلم کا خاتمہ ہوگا۔
عطاء اللہ تارڑ pic.
— Sidra Aslam (@SidraAslamOff) August 8, 2025
انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطینی بہن بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار اور انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت مسلسل امدادی سامان غزہ بھجوا رہا ہے، وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر اب تک امدادی سامان پر مشتمل 18 کھیپیں غزہ روانہ کی جا چکی ہیں، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ذریعے دو چارٹرڈ طیارے 100، 100 ٹن امدادی سامان اردن پہنچائیں گے جہاں سے یہ سامان اردن کے فلاحی ادارے کے ذریعے زمینی راستے سے غزہ تک پہنچایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی برادری غزہ کے لیے امداد کی فراہمی فوری بحال کرے، پاکستان
انہوں نے کہا کہ غزہ میں دانستہ طور پر غذائی قلت پیدا کی گئی ہے جس کے باعث شہری اور بچے شدید مشکلات کا شکار ہیں، ہم ان کے دکھ درد کو سمجھتے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر حکومت پاکستان امدادی سامان خصوصاً کھانے پینے کی اشیا اور ادویات غزہ کے شہریوں کے لئے بھجواتی رہی ہے اور بھجواتی رہے گی۔
ہم اس کاز کے ساتھ مکمل طور پر پرعزم ہیں، اس مشن میں جماعت اسلامی اور الخدمت فائونڈیشن نے بھی حصہ لیا، ان کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان غزہ کے مظلوم بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے، ان شاء اللہ ان مظالم کا خاتمہ ہوگا۔ تقریب میں فلسطینی سفیر سمیت حکومتی نمائندے اور این ڈی ایم اے کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔ وفاقی وزیر نے سامان کی فوری روانگی کو یقینی بنانے پر این ڈی ایم اے اور دیگر فلاحی اداروں کی کوششوں کو سراہا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news امدادی سامان پاکستان عطاتارڑ غزہ فلسطین
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان عطاتارڑ فلسطین وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر نے کہا کہ کے ساتھ کے لیے غزہ کے
پڑھیں:
امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔
Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…
— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026
انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔
یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔
امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔
یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔
دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔
اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔
مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے