پرو ہاکی لیگ کے معاملے پر خصوصی کمیٹی قائم
اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT
ٹیم کے سفر، رہائش، ڈیلی الانسزسمیت دیگر اخراجات 35 کروڑ کی ڈیمانڈ
کمیٹی سفارشات کی روشنی میں شرکت کا فیصلہ وزیر اعظم کریں گے،رپورٹ
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی پرو ہاکی لیگ میں شرکت کے معاملے پر رانا ثنا اللہ کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی قائم کردی۔وزیراعظم کمیٹی سفارشات کی روشنی میں پرولیگ میں پاکستان ہاکی ٹیم کی شرکت کا فیصلہ کریں گے، خصوصی کمیٹی کا اجلاس گیارہ اگست کو طلب کیا جائے گا۔کمیٹی میں سیکرٹری آئی پی سی، سیکریٹری خزانہ شامل ہیں ہاکی فیڈریشن، پی ایس بی کا نماندہ بھی کمیٹی کاحصہ ہوگا۔نیوزی لینڈ کے انکار کے بعد ایف آئی ایچ نے پاکستان کو پرو ہاکی لیگ میں شرکت کیلئے باضابطہ مدعو کیا تھا۔پی ایچ ایف نے پرولیگ کیلے 35 کروڑ روپے گرانٹ کی درخواست کررکھی ہے، گرانٹ قومی ٹیم کے سفر، رہائش، ڈیلی الانسزسمیت دیگر اخراجات کے لئے مانگی گئی ہے۔پاکستان ہاکی فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری رانا مجاہد کا کہنا ہے میگا ایونٹ کے انعقاد سے ملک میں ہاکی کو فروغ حاصل ہوگا اور ہاکی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔ رانا مجاہد نے کہا کہ وزیر اعظم شہاز شریف کے ویژن کے مطابق ہاکی کوگراس روٹ پر پروموٹ کررہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔