بلاول بھٹو کی وزیراعظم سے ملاقات کا سیاسی ایجنڈا نہیں تھا، رانا ثنا
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
فائل فوٹو۔
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور اور مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما رانا ثنا اللّٰہ نے کہا ہے کہ اتحادی حکومت سے مطمئن ہیں، بلاول بھٹو کی وزیراعظم سے ملاقات کا سیاسی ایجنڈا نہیں تھا، وہ وزیراعظم کے کزن کے انتقال پر تعزیت کے لیے آئے تھے۔
نجی ٹی سے گفتگو رانا ثنا اللّٰہ نے کہا کہ سیاستدان بیٹھیں تو دیگر معاملات پر بھی ہلکی پھلکی بات ہو جاتی ہے، آئندہ دو تین سال میں ملک کے کئی مسائل حل ہو جائیں گے۔
وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بیٹے اس صورت حال میں نہیں آئیں گے، اگر بانی پی ٹی آئی کے بچے ویزہ مانگیں تو ان کو دینا چاہیے، میرا خیال ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے بیٹوں نے ویزہ نہیں مانگا۔
رانا ثنا اللّٰہ نے کہا کہ ہمیں پہلے سے اندازہ تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے بیٹے نہیں آئیں گے، بانی کی بطور وزیراعظم حلف برداری میں بھی ان کے بچے نہیں آئے تھے۔ ان کے بیٹے سیاست اور ان حالات میں تحریک کی سربراہی کرنا چاہتے ہیں تو یہ آسان کام نہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے دور میں اور پچھلے دو سال میں ان کے بچے نہیں آئے، پی ٹی آئی کی 5 اگست کی کال پر لوگوں نے ریسپانس نہیں دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی کے نہیں ا کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔