27ویں آئینی ترمیم منظوری، سیاسی خودکشی کے مترادف ہے، مشتاق غنی
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
راولپنڈی (نیوز ڈیسک)خیبرپختونخوا اسمبلی کے سابق اسپیکر مشتاق غنی نے کہنا ہےکہ27 ویں ترمیم کو جو پارٹی منظور کرے گی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں انکا نام مٹ جائے گا۔
اڈیالہ جیل کے قریب داہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق اسپیکر کے پی کے مشتاق غنی کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا سے جوں ہی ہم پنجاب میں داخل ہوتے ہیں تو پنجاب میں سلوک ہوتا دیکھ لیں ہائیکورٹ کے احکامات کے باوجود ہمیں بانی پی ٹی آئی سے ملنے سے روکا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مریم نواز آپ بھی ایک صوبے کی وزیر اعلیٰ ہیں اور سہیل آفریدی بھی کے پی کے کا وزیر اعلیٰ ہیں، خدا نہ کرے کے برا وقت آئے کے پی کے کو اور یہ لوگ وہاں قید ہوں اور ہم مریم نواز کو اٹک پل پر روک لیں لیکن ہم کبھی ایسا نہیں کریں گئے۔
انہوں نے کہا کہ ہم عزت کے ساتھ استقبال کریں گئے اور انہیں ان کے پیاروں سے ملنے دیں گے، آٹھ فروری سے آج تک بانی پی ٹی آئی سے میری ملاقات نہیں ہونے دی گئی۔
مشتاق غنی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی ہمارا لیڈر ہے خوابوں میں ہی ہماری ملاقاتیں ہوتی ہیں ستائیسویں ترمیم کو جو پارٹی منظور کرے گئی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں انکا نام مت جائے گا۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ اپوزیشن کواعتماد میں لینا ضروری ہے اپوزیشن پہلے بھی باہر تھی وزیر اعلیٰ کے پی کے کا اڈیالہ جیل بار بار آرہے ہیں عدالت کے احکامات کے باوجود پھرملاقات نہیں ہونے دی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
دارالحکومت اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔