بلوچ رہنما سمی دین بلوچ کا بلوچستان کے ایشو پر تفصیلی انٹرویو
اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT
اپنے خصوصی انٹرویو میں رہنما بلوچ یکجہتی کمیٹی سمی دین نے کہا ہے کہ اگر ہم ریاست کو تسلیم نہ کرتے تو یہاں پرامن سڑکوں پر نہیں بیٹھتے، آج ہمارے ہاتھ میں بھی بندوق ہوتی، بندوق اٹھانا آسان آپشن ہوتا ہے، اس طرح اسلام آباد کی سڑکوں پر بیٹھ کر آئین اور قانون کی بات کرنا جرات اور ضمیر کی بات ہے، اگر آج ہم پرامن احتجاج کر رہے ہیں تو ریاست کو چاہیے کہ ہمارے اس احتجاج کو سنے، اگر اس طرح ہمیں دہشتگرد بنایا گیا تو پھر وہ جو پرامن سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں اُن کا بھی اعتبار اٹھ جائے گا۔ متعلقہ فائیلیںسمی دین بلوچ یکجہتی کمیٹی کی معروف رہنما ہیں جو بلوچ عوام کے حقوق اور سیاسی آزادی کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ وہ بلوچ یکجہتی اور بلوچ قوم کی سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق کی جدوجہد میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔ سمی دین بلوچ یکجہتی کمیٹی کی آواز کو مضبوطی سے بلند کرتے ہوئے بلوچستان میں پائیدار امن اور انصاف کے قیام کے لیے کوشاں ہیں اور مختلف فورمز پر بلوچ عوام کے مسائل اور مطالبات کی نمائندگی کرتی ہیں۔ سمی دین کے اپنے والے سولہ سال سے لاپتہ ہیں، وہ اسلام آباد میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے احتجاج میں شریک ہیں، اس موقع پر سینئر صحافی نادر بلوچ نے ان سے انٹرویو کیا ہے جو پیش خدمت ہے۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بلوچ یکجہتی کمیٹی
پڑھیں:
اسلام آباد میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کی افتتاحی تقریب
برطانوی ہائی کمیشن نے گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کے آغاز کی مناسبت سے اسلام آباد میں ایک خصوصی استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا، جس میں کھیل، حکومت، سول سوسائٹی، میڈیا اور دولتِ مشترکہ کے سابق اسکالرز سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔
گلاسگو میں 23 جولائی سے 2 اگست 2026 تک منعقد ہونے والے دولتِ مشترکہ کھیلوں میں 74 رکن ممالک اور خطوں کے تقریباً 3 ہزار کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں۔ مقابلوں میں 10 مختلف کھیل شامل ہیں، جن میں 6 پیرا اسپورٹس بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:دولت مشترکہ میں خدمات سرانجام دینے والی بلی کو نئی ذمہ داریاں مل گئیں
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے کہا کہ دولتِ مشترکہ کھیل صرف تمغے جیتنے کا مقابلہ نہیں بلکہ یہ مختلف قوموں کو قریب لانے، صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور کھیلوں کے ذریعے معاشروں کو متحد کرنے کا ذریعہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کھیلوں کی تاریخ شاندار رہی ہے اور پاکستانی کھلاڑی آج بھی نوجوان نسل کے لیے باعثِ تحریک ہیں۔ انہوں نے برطانیہ، پاکستان اور دولتِ مشترکہ کے درمیان مضبوط تعلقات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا۔
تقریب میں دولتِ مشترکہ اسکالرشپس اور فیلوشپس پروگرام کو بھی اجاگر کیا گیا، جس کے ذریعے گزشتہ 60 برس سے مختلف رکن ممالک کے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم اور پیشہ ورانہ مہارت کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔
استقبالیے سے قبل برطانوی ہائی کمیشن نے پاکستان سے تعلق رکھنے والے ان نوجوان رہنماؤں کو بھی اعزازات سے نوازا، جنہیں “ملکہ الزبتھ دوم کامن ویلتھ ٹرسٹ 100 ینگ لیڈرز ایوارڈز” کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔
اعزاز حاصل کرنے والوں میں پاک جی پی ٹی کی شریک بانی فرح گل رہوجہ شامل ہیں، جو مصنوعی ذہانت کے ذریعے تعلیم، صحت اور موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ محروم طبقات کی مدد کر رہی ہیں۔ امید فاؤنڈیشن کے بانی حسن اشرف کو محنت کش بچوں اور پسماندہ طبقات کے لیے مفت تعلیم کے فروغ پر سراہا گیا، جبکہ گرلز یونائیٹڈ فار ہیومن رائٹس کی بانی ہادیقہ بشیر کو کم عمری کی شادی کے خاتمے، صنفی تشدد کے خلاف جدوجہد اور بچیوں کی تعلیم کے فروغ پر اعزاز دیا گیا۔ اسی طرح آئی ایس وائی ڈی کے بانی جوشوا دلاور کو نوجوانوں کی شمولیت، صحت میں مساوات، صنفی برابری اور سماعت سے محروم نوجوانوں کی تربیت کے شعبے میں خدمات پر ایوارڈ سے نوازا گیا۔
برطانوی ہائی کمیشن کے مطابق گلاسگو 2026، برطانیہ کی جانب سے 2014 میں گلاسگو اور 2022 میں برمنگھم میں کامیاب دولتِ مشترکہ کھیلوں کے انعقاد کی روایت کو آگے بڑھا رہا ہے، جبکہ اس تقریب کا مقصد کھیل، تعلیم اور نوجوان قیادت کے ذریعے دولتِ مشترکہ ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام اباد برٹش ہائی کمیشن پاکستان دولت مشترکہ