راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی میں ڈی جی آئی ایس پی آر اور طلبا کی قومی جذبے سے بھرپور اظہار یکجہتی
اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT
راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی طلبا کے ساتھ ایک خصوصی نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے طلبا سے کھل کر گفتگو کی اور ایک سوال و جواب کا خصوصی سیشن بھی منعقد کیا گیا۔
طلبا نے اس سیشن کی بھرپور پذیرائی کی اور اس موقع پر قومی جذبے کا بھرپور اظہار کیا۔ نشست میں طلبا نے اپنی یکجہتی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایسے مواقع وقت کی اہم ضرورت ہیں جن کے ذریعے نوجوان نسل کو ملکی دفاع اور افواج پاکستان سے جوڑا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: ڈی جی آئی ایس پی آر کا کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کا دورہ
طلبا نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وطن دشمن عناصر چاہے جتنی بھی کوشش کر لیں، مگر نوجوان نسل کو اپنی افواج سے دور نہیں کر سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ افواج ہم سے ہیں اور ہم افواج سے ہیں، پاکستان کے خلاف اٹھنے والی ہر میلی آنکھ کے خلاف ہم اپنی افواج کے ساتھ کھڑے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ڈی جی آئی ایس پی آر راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈی جی آئی ایس پی آر راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی ڈی جی آئی ایس پی آر میڈیکل یونیورسٹی
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔