بابر اعظم اور محمد رضوان ٹی20 اسکواڈ سے باہر کیوں؟ عاقب جاوید نے وجہ بتا دی
اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT
قومی کرکٹ ٹیم کے سلیکٹر اور سابق فاسٹ بولر عاقب جاوید نے واضح کیا ہے کہ اسٹار بلے باز بابر اعظم اور وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان کی ٹی20 اسکواڈ میں عدم موجودگی کارکردگی کی بنیاد پر ہے اور کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کی گئی۔
لاہور میں ایشیا کپ اور سہ ملکی سیریز کے لیے ٹیم کے اعلان کے موقع پر صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے عاقب جاوید نے کہاقومی ٹیم میں شمولیت کا معیار کارکردگی ہے، اور ہم کھلاڑیوں کو ان کی فارم کی بنیاد پر مواقع دیتے ہیں۔ جو فارم میں ہوگا، وہ ٹیم میں ہوگا۔
بابر اور رضوان کیوں ڈراپ ہوئے؟
عاقب جاوید نے وضاحت کی کہ بابر اعظم اور محمد رضوان پچھلی تین ٹی20 سیریز کا حصہ نہیں رہے۔
ان کی جگہ صائم ایوب، فخر زمان اور صاحبزادہ فرحان جیسے نوجوان بلے باز ٹاپ آرڈر میں اپنی کارکردگی دکھا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بابر اور رضوان بھی دوسرے کھلاڑیوں کی طرح کارکردگی دکھا کر ٹیم میں واپسی کر سکتے ہیں، کسی کو بھی مستقل طور پر اسکواڈ سے باہر نہیں کیا گیا۔ دو تین میچز کی بنیاد پر کسی کھلاڑی کو نظر انداز کرنا درست نہیں، لیکن اس وقت ہمارے پاس اچھے آپشنز موجود ہیں۔
ٹیکنیک پر کام کر رہے ہیں
ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے بھی اس موقع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بابر اعظم کو اسپن بولنگ کے خلاف اپنی تکنیک بہتر بنانے کا مشورہ دیا گیا ہے اور وہ اس پر کام کر رہے ہیں۔
اہم ٹورنامنٹس شیڈول
تین ملکی سیریز (پاکستان، افغانستان، یو اے ای)
29 اگست تا 7 ستمبر
شارجہ
ایشیا کپ 2025
9 تا 28 ستمبر
ابوظہبی اور دبئی
یہ تبدیلیاں پاکستان کرکٹ میں نئے کھلاڑیوں کو آزمانے اور ٹیم کو متحرک رکھنے کی کوشش کا حصہ ہیں، تاہم بابر اور رضوان کی واپسی کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: عاقب جاوید نے
پڑھیں:
گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔