پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ قابل مذمت ہے،جاوید قصوری
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (وقائع نگارخصوصی )امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ پڑولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشر با اضافہ قابل مذمت ہے۔ پیٹرول 8.36روپے اور ڈیزل 10.39 روپے فی لیٹر مہنگا ہونے سے مہنگائی کا طوفان آئے گا۔ملک کے اندر پہلے ہی غریب آدمی زندہ درگور ہو چکاہے۔کوئی پرسان حال نہیں۔ تاریخ کے نا اہل ترین حکمران ملک وقوم پر مسلط ہیں جن سے خیر کی کوئی امید نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز صوبائی دفتر منصورہ میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پروٹیکٹڈ یونٹس کے نام پر جو کھیلوا ڑ قوم کے ساتھ کیا جار ہا ہے وہ شرمناک ہے، سلیب سسٹم کا خاتمہ کیا جائے تاکہ غریب عوام کو بھی کچھ ریلیف میسر ہو۔ آئی ایم ایف کے حکم پر بجلی کے بلوں پر ظالمانہ ٹیکسوں کے ذریعے وصول ہونے والا پیسہ،صرف حکمرانوں کے اللوں تللوں پر خرچ ہو ر ہا ہے۔ واپڈا میں پالیسی ساز خود فری یونٹس کے مزے لے رہے ہیں وہ کیسے غریب عوام کے بارے میں سوچیں گئے۔انہوں نے کہا کہ بجٹ کے فوراً بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے حکومت نے عوام کے ساتھ ساتھ چھوٹے کاروباری طبقے کو بھی پریشان کر دیا ہے۔،کاروبار پہلے ہی بجلی کے نرخوں، ٹیکسوں اور معاشی بے یقینی کا شکار ہیں۔ حکومت عوام کے صبر کا امتحان نہ لے۔اس سے نہ صرف افراطِ زر کے دباؤ میں اضافہ ہوگا بلکہ کاروبار کرنے کی لاگت میں بھی اضافہ ہوگا جو خطے میں پہلے ہی بہت زیادہ ہے۔محمد جاوید قصوری نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ پاکستانی مصنوعات کی اندرونِ اور بیرونِ ملک طلب انتہائی کم ہو چکی ہے، بڑھتی ہوئی مہنگائی نے مقامی صارفین کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے، جبکہ غیر ملکی اور علاقائی مارکیٹس کے لیے مقامی مصنوعات غیر مسابقتی بن چکی ہیں۔ حکمرانوں کے پاس کسی قسم کا کوئی معاشی پلان نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مصنوعات کی
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔