اسلام آباد:

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ بھی اگر کسی نے ریاست پر حملہ آور ہونے کی جرات کی تو جواب پہلے سے بھی سخت  ہوگا۔

وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کا طرز عمل بھی سیاسی ہونا چاہیے، تحریک انصاف نے بار بار سیاسی غلطیاں کیں، پہلے استعفے دیے، پھر اسمبلیاں توڑی اور اب اپنی نالائقی کی وجہ سے مخصوص نشستوں سے محرم ہوئے ہیں۔

انہوں  نے کہا کہ مخصوص سیٹیں دوسری جماعتوں کو پی ٹی آئی کی اپنی غلطی کی وجہ سے ملیں، آج انہیں جن حالات کا سامنا ہے، اس کی واحد وجہ ان کی یہی غیر سیاسی سوچ ہے۔

طلال چوہدری نے کہا کہ علی امین گنڈاپور پہلے بھی اسلام آباد پر چڑھائی کی کئی کوشش کر چکے ہیں لیکن ہر بار ریاست نے آئین و قانون کے تحت آپ کا راستہ روکا، آئندہ بھی اگر کسی نے ریاست پر حملہ آور ہونے کی جرات کی تو جواب پہلے سے بھی سخت  ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ جن صاحب کے اپنے صوبے میں پولیس محفوظ نہ ہو، جن کی حکومت دہشت گردوں سے ڈرتی ہو، وہ صرف ٹی وی پر بھڑکیں مار سکتے ہیں، صوبے میں اگرپی ٹی آئی کی لگاتار تیسری حکومت نہ ہوتی تو صوبے میں دہشت گردی نہ ہوتی۔

وزیرمملکت نے کہا کہ سیاسی اختلاف کا حق سب کو ہے لیکن ریاستی اداروں پر حملہ کسی کو بھی قبول نہیں، جو سیاست نفرت، انتشار اور بدامنی سے شروع ہو، اس کا انجام ہمیشہ پچھتاوے، تنہائی اور رسوائی ہوتا ہے۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان طلال چوہدری نے کہا کہ پر حملہ

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ریاست مخالف ٹوئٹ کیس: پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید اور فلک جاوید کے جیل ٹرائل کےلیے دائر درخواست خارج
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • کراچی: کیماڑی سے اغواء 7 سالہ بچی کیساتھ قتل سے پہلے زیادتی کی تصدیق
  • آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نواز شریف آج میرپور میں جلسے سے خطاب کریں گے
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا