گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا میں گلیشیئرز پگھلنے سے سیلاب کا خدشہ، الرٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا میں گلیشیئرز پگھلنے سے سیلاب کا خدشہ، الرٹ جاری WhatsAppFacebookTwitter 0 4 July, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوئ)اسلام آباد میں درجہ حرارت میں غیرمعمولی اضافے کے بعد محکمہ موسمیات نے گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا میں گلیشیئر پگھلنے سے سیلاب کے خطرے کی وارننگ جاری کردی ہے۔ماہر موسمیات زینت یاسمین کے مطابق آئندہ ہفتے درجہ حرارت میں مزید اضافے اور موسمی تبدیلیوں کے باعث گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے (GLOF) کا خطرہ بڑھ گیا ہے، جو متاثرہ وادیوں میں فلیش فلڈ اور گلیشیائی سیلاب کا باعث بن سکتا ہے۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بلند درجہ حرارت اور موسمی نظام گلیشیئر جھیلوں پر دبا بڑھا رہے ہیں جس کے باعث گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اس سلسلے میں پی ایم ڈی نے متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے اور حفاظتی اقدامات کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی انتظامات کیے جا سکیں۔محکمہ موسمیات نے شہریوں اور سیاحوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ممکنہ خطرے کے پیش نظر حساس اور خطرناک علاقوں کا سفر کرنے سے گریز کریں اور مقامی حکام کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔گلوبل وارمنگ اور مقامی درجہ حرارت میں اضافے کو علاقے کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے ماہرین نے زور دیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مقامی سطح پر فوری اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ انسانی جانوں اور املاک کو محفوظ رکھا جا سکے۔
محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری الرٹ کے بعد خیبرپختونخوا کے گلیشیائی علاقوں میں بھی خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگی ہیں۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق درجہ حرارت میں مسلسل اضافے سے گلیشیئرز کے پگھلنے اور فلیش فلڈز کے امکانات بڑھ گئے ہیں جس کے باعث گلگت بلتستان کے ساتھ ساتھ پشاور، چترال، دیر، سوات اور کوہستان کے عوام کو خبردار رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کو حساس مقامات کی مسلسل نگرانی، بروقت وارننگ اور انخلا کی مشقیں یقینی بنانے کی ہدایت کردی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کی صورت میں فوری ردعمل ممکن بنایا جا سکے۔ عوام کو خاص طور پر ندی نالوں کے قریب غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے اور تیز بہا والے پانی میں گاڑیاں لے جانے سے اجتناب کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارت کا پانی کو ہتھیار بنانا خطرناک ہے، کسی قیمت پر جارحیت کی اجازت نہیں دی جا سکتی، وزیرعظم پاکستان کی چین میں منعقدہ 2025 ایس سی او فلم فیسٹیول میں شرکت وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کے صدر الہام علییف سے ملاقات حکومت کا ایران و عراق جانے والے زائرین کیلئے پروازوں میں اضافے کا فیصلہ جدہ: آئی اے پی جے کے زیرِ اہتمام اظہارِ تشکر ویبینار،افواجِ پاکستان کو خراجِ تحسین مانچسٹر کے علاقے بری میں امام حسینؑ کی شہادت کے موقع پر پہلا ماتمی جلوس منعقد مائیکروسافٹ نے پاکستان میں 25 سال بعد اپنے دفاتر بند کر دیے، وجہ کیا بنی؟Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔