data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد / واشنگٹن: اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان ہونے والی تجارتی بات چیت نے ایک فیصلہ کن موڑ لے لیا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک ایک اہم اقتصادی مفاہمت پر متفق ہو گئے ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کی برآمدات، خاص طور پر ٹیکسٹائل اور زرعی شعبہ، بھاری امریکی ٹیرف کے خطرے سے دوچار تھیں۔ اگر مقررہ ڈیڈ لائن سے پہلے کوئی معاہدہ نہ ہوتا تو ان مصنوعات پر دوبارہ سے سخت تجارتی شرائط لاگو ہو سکتی تھیں، جس سے ملکی برآمدی صنعت کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا۔

پاکستانی وفد، جس کی قیادت سیکرٹری تجارت جاوید پال نے کی، نے واشنگٹن میں چار روزہ مذاکرات کے بعد کامیابی سے یہ مرحلہ عبور کیا۔

اگرچہ ان مذاکرات کے نتیجے میں ہونے والے فریم ورک کا باضابطہ اعلان تاحال باقی ہے، تاہم یہ واضح ہے کہ فریقین اصولی طور پر متعدد اہم نکات پر متفق ہو چکے ہیں۔ اب یہ اعلان اُس وقت متوقع ہے جب امریکا اپنے دیگر عالمی تجارتی شراکت داروں کے ساتھ جاری مشاورت کو مکمل کر لے گا۔

ذرائع کے حوالے سے میڈیا رپورٹس کے مطابق مذاکرات صرف ٹیرف کے خاتمے تک محدود نہیں رہے بلکہ ان میں وسیع تر اقتصادی تعاون پر بھی بات چیت ہوئی۔ یہ معاہدہ اس لحاظ سے غیر معمولی ہے کہ اس کے ذریعے نہ صرف پاکستانی مصنوعات کو امریکی منڈی میں مسلسل رسائی حاصل رہے گی، بلکہ امریکی سرمایہ کاری کے کئی نئے دروازے بھی کھلنے والے ہیں۔ خاص طور پر توانائی، کان کنی اور انفرااسٹرکچر کے شعبوں میں امریکا کی دلچسپی پاکستان کے لیے معاشی ترقی کے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔

پاکستانی ٹیم کا اصل ہدف 29 فیصد ٹیرف کو مستقل طور پر ختم کروانا تھا، جو کہ عارضی طور پر رواں سال کے آغاز میں معطل کیا گیا تھا۔ اگر یہ رعایت ختم ہو جاتی تو پاکستانی برآمدات کے لیے امریکی منڈی محدود ہو جاتی، جس کا براہ راست اثر لاکھوں مزدوروں اور صنعتی اداروں پر پڑتا۔ خوش قسمتی سے یہ خطرہ وقتی طور پر ٹل گیا ہے اور آئندہ کے لیے اس کے مستقل خاتمے کی راہ بھی ہموار ہوتی نظر آ رہی ہے۔

مزید برآں، اس بات چیت کے دوران امریکی ایکسپورٹ-امپورٹ بینک کے ذریعے دو طرفہ مالی تعاون کو وسعت دینے کی تجاویز بھی زیر غور آئیں، جس سے پاکستان کو امریکی فنانسنگ تک آسان رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔ یہ پہلو پاکستان کے تجارتی خسارے کو کم کرنے میں بھی مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔

اگرچہ امریکا کے وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے پہلے ہی اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ مثبت پیش رفت کی صورت میں 9 جولائی کی ڈیڈ لائن میں کچھ نرمی ممکن ہو سکتی ہے، لیکن پاکستانی حکام نے جلد بازی میں معاہدے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے پر زور دیا۔ ان کے بقول کسی بھی قسم کی غیر یقینی صورتحال، خاص طور پر سرمایہ کاروں اور برآمد کنندگان کے لیے، ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔

معاشی تجزیہ کار اس معاہدے کو پاکستان کے لیے نہ صرف ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں بلکہ اسے ایک ایسا سنگ میل سمجھا جا رہا ہے جو آنے والے برسوں میں امریکا کے ساتھ تجارتی روابط کو نئی جہت دے گا۔

توقع کی جا رہی ہے کہ یہ پیش رفت دوطرفہ تعلقات میں پائیدار توازن کے قیام میں مددگار ثابت ہو گی اور پاکستانی برآمد کنندگان کو عالمی منڈی میں مستحکم مقام دلانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ہو سکتی سکتی ہے کے لیے

پڑھیں:

’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی

پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔

طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘

طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔

سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔

دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔
 

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف