پاکستان اور امریکا کے درمیان ڈیڈلائن سے ایک ہفتہ قبل تجارتی معاہدے پر مفاہمت طے پاگئی
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
پاکستان اور امریکا کے درمیان ڈیڈلائن سے ایک ہفتہ قبل تجارتی معاہدے پر مفاہمت طے پاگئی WhatsAppFacebookTwitter 0 5 July, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) 9 جولائی کی ڈیڈ لائن سے ایک ہفتے قبل ہی، پاکستان اور امریکا نے تجارتی مذاکرات کا ایک اہم دور مکمل کر لیا ہے، جس میں ایک ایسے معاہدے پر مفاہمت طے پا گئی ہے جو ملک کے اہم برآمدی شعبوں کے مستقبل کی تشکیل کر سکتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سیکریٹری تجارت جاوید پال کی قیادت میں پاکستانی وفد 4 روزہ مذاکرات مکمل کرنے کے بعد جمعہ کو وطن واپسی کی تیاری کر رہا تھا۔
اگرچہ دونوں فریقین کے درمیان ایک مفاہمت طے پا چکی ہے، لیکن باقاعدہ اعلان اُس وقت کیا جائے گا، جب امریکا دیگر تجارتی شراکت داروں کے ساتھ جاری مذاکرات مکمل کر لے گا۔
پاکستانی وفد پیر کو واشنگٹن پہنچا تھا، جس کا مقصد ایک طویل مدتی باہمی ٹیرف معاہدے کو حتمی شکل دینا تھا، تاکہ پاکستانی برآمدات، بالخصوص ٹیکسٹائل اور زرعی مصنوعات پر 29 فیصد ٹیرف دوبارہ عائد ہونے سے روکا جا سکے۔
یہ ٹیرف رعایت، جسے رواں سال کے اوائل میں عارضی طور پر معطل کیا گیا تھا، 9 جولائی کی ڈیڈ لائن تک پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں ختم ہو سکتی تھی۔
مذاکرات سے واقف حکام کا کہنا ہے کہ بات چیت کامیاب رہی اور دونوں فریق ایک وسیع فریم ورک پر متفق ہو گئے ہیں۔
جب معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے تو اس سے امریکی مصنوعات، خاص طور پر خام تیل کی پاکستان میں درآمدات میں اضافہ ہو سکتا ہے، اور ساتھ ہی امریکا کی جانب سے پاکستان کے کان کنی، توانائی، اور انفرااسٹرکچر کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
ریکوڈک کا تانبے اور سونے کا منصوبہ اور متعلقہ توانائی انفرااسٹرکچر اس گفتگو کا مرکزی نکتہ رہے، یہ معاہدہ یو ایس ایکسپورٹ-امپورٹ بینک کے ذریعے بڑھتی ہوئی شراکت داری کی راہ بھی ہموار کر سکتا ہے۔
اگرچہ امریکی وزیر خزانہ، اسکاٹ بیسنٹ نے پہلے اشارہ دیا تھا کہ اگر قابل ذکر پیش رفت ہو تو امریکا ڈیڈ لائن میں کچھ نرمی کی اجازت دے سکتا ہے، تاہم پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے برآمد کنندگان اور سرمایہ کاروں کے لیے غیر یقینی صورتحال ختم کرنے کی خاطر معاہدے کو جلد مکمل کرنے پر زور دیا۔
حکام پرامید ہیں کہ یہ معاہدہ پاکستان کی امریکی منڈی تک رسائی کو برقرار رکھے گا، اور ان دو طرفہ اقتصادی تعلقات کو دوبارہ بہتر بنانے میں مدد دے گا، جو ٹرمپ انتظامیہ کے دوران زیادہ ٹیرف لگنے کے بعد تناؤ کا شکار ہو گئے تھے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرنئے ’دلائی لاما‘ کی تقرری پر بیان بازی، چین نے بھارت کو خبردار کردیا پاکستان کا پانی روکا تو یہ جنگ کے مترادف ہوگا، وزیراعظم نے ایک بار پھر بھارت کو خبردار کردیا صنعتی پالیسی کی سفارشات مکمل، وزیراعظم کے ویژن کے تحت عملدرآمد کا آغاز بھارتی فوج کے نائب سربراہ کا پاکستان کی عسکری برتری کا اعتراف گمراہ کن تشہیر: اپیلٹ ٹربیونل کمپٹیشن کمیشن کا پریما ملک کے خلاف فیصلہ برقرار، جرمانہ میں کمی کر دی وفاقی وزیر داخلہ کی امریکی عوام اور سفارتی حکام کو یوم آزادی پر مبارکباد کے پی ا اور پنجاب میں زیر التوا سینیٹ انتخابات کے شیڈول کا اعلانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: معاہدے پر مفاہمت طے
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔