معروف عالمی کمپنی مائیکروسافٹ نے پاکستان میں اپنا دفتر بند کرنے اور 5 ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ عالمی ٹیک کمپنی نے ملک میں اپنا آپریشن بند کردیا۔

رپورٹس  میں ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ کمپنی پاکستان میں اپنے آپریشنز باضابطہ طور پر بند کر رہی ہے۔

مائیکروسافٹ کی پاکستان میں موجودگی حالیہ دنوں تک برقرار تھی، کمپنی کے زیادہ تر آپریشنز غیر ملکی دفاتر اور پاکستان میں موجود پارٹنرز کے ذریعے چلائے جا رہے تھے۔

اپنے ایک بیان میں ترجمان مائیکروسافٹ نے کہا کہ ہم اپنے صارفین کو قریبی دفاتر کے ذریعے خدمات فراہم کریں گے، ہم یہ ماڈل دنیا کے کئی دیگر ممالک میں کامیابی سے چلا رہے ہیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ کمپنی مقامی پارٹنرز اور غیر ملکی دفاتر کے ذریعے خدمات فراہم کرے گی۔

بیہ اقدام کمپنی کی عالمی سطح پر جاری چھانٹیوں کا حصہ ہے، کیوں کہ وہ مصنوعی ذہانت کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔

بدھ کو مائیکروسافٹ نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے تقریباً 2 لاکھ 28 ہزار ملازمین میں سے 4 فیصد کو فارغ کر رہی ہے، مئی میں کمپنی نے 6 ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

کمپنی نے کہا کہ وہ کم منتظمین کے ساتھ اپنے آپریشنز کو چلانے اور اپنی مصنوعات، طریقہ کار اور کرداروں کو بہتر بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

اس حوالے سے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن نے اپنے ایک بیان کہا کہ عالمی ٹیک کمپنیاں آن-پریمیس سافٹ ویئر ڈپلائمنٹ سے سافٹ ویئر ایز اے سروس ماڈل کی طرف منتقل ہو رہی ہیں، مائیکروسافٹ کا ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان میں ملازمین کو فارغ کرنے کو فارغ

پڑھیں:

ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل

تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔

عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔

عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔

ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔

Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.

Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.

— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) July 24, 2026

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ