data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سکھر (نمائندہ جسارت) جماعت اسلامی صوبہ سندھ کے ڈپٹی سیکریٹری مولانا حزب اللہ جکھرو نے کہا ھے کہ محرم الحرام ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنے فروعی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر اتحاد و اتفاق، صبر و استقامت، اور ظالم کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا عہد کریں، دارلعلوم تفھیم القرآن سکھر میں اجتماع اور کنڈیارو میں شھادت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کانفرنس سے خطاب کرتے ھوئے.

انہوں نے کہا کہ عصرِ حاضر کی کربلا میں حق و باطلآمنے سامنے ہیں، مسلم حکمرانوں کے دل غزہ اور امام حسین ؓ کے ساتھ اور ان کی تلواریں اسرائیل و امریکا کے ساتھ ہیں، مولانا حزب اللہ جکھرو نے کہا کہ نواسہﷺ رسول حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے انبیائے کرام حضرت ابراہیم و موسیٰ علیہما السلام کی سنت پر چلتے ہوئے وقت کے فرعون، نمرود اور یزید کو للکارا اور ظلم کے خلاف علمِ حق بلند کیا۔جس کی مثال تاریخِ انسانیت میں نہیں ملتی۔انہوں نے کہا کہ اہلِ حق کبھی تعداد کی قلت یا کثرت سے مرعوب نہیں ہوتے، بلکہ عشقِ خدا میں سب کچھ قربان کرنے کے جذبہ میں وہ ہر دور کے ظالموں اور جابروں سے ٹکرا جاتے ہیں۔ انبیاء کرام علیھم السلام کی تاریخ اس حقیقت سے بھری پڑی ہے کہ حق کے علمبرداروں نے خدا کی راہ میں جیل، اذیت اور شہادت جیسی سختیوں کو خندہ پیشانی سے قبول کیا۔آج جب امتِ مسلمہ دنیا بھر میں آزمائش، جارحیت اور فرقہ واریت کا شکار ہے، محرم الحرام ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنے فروعی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر اتحاد و اتفاق، صبر و استقامت، اور ظالم کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا عہد کریں۔ انہوں نے کہا کہ کربلا نے سکھایا کہ ظلم چاہے کسی بھی شکل میں ہو، اس کے خلاف ا?واز بلند کرنا ایمان کا تقاضا ہے۔ اور یہ بھی کہ ملت کی بقا، وحدت اور باہمی احترام میں مضمر ہے۔ دشمنانِ اسلام امت کو کمزور کرنے کے لیے ہمیں فرقہ واریت، لسانیت اور تعصب میں الجھانا چاہتے ہیں، مگر امام حسین? کا پیغام ہے کہ امت کی طاقت اْس کے اتحاد میں ہے۔انہوں نے کہا کہ کربلا صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ ہر دور کے ظالم و مظلوم کے درمیان ایک روشن معیار ہے۔عوام آج کے یزودوں کے خلاف میدان میں نکلے اور انھیں وؤٹ نہ دے۔جنھوں نے عوام کو مھنگائی اور ظلم کی چکی میں ڈالا ھے،حسینی کردار اداکرنے والے قوم کے حقیقی نمائندے ھیں ،انہوں نے کھا کہ محرم چند رسومات کا نام نھیں بلکہ یزیدی اور فرعونی نظام کے تبدیلی کا نام ھے،جماعت اسلامی اللہ کی دھرتی پر اللہ کے نظام کے نفاذ کی جدوجھد کررھی ھے قوم اسکا ساتھ دے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ کے خلاف

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی