پیرس کے تاریخی دریائے سین (Seine) کو 102 سال بعد پہلی بار عوامی تیراکی کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ ہفتے کے روز 3 مقامات پر باقاعدہ سوئمنگ ایریاز کا افتتاح کیا گیا، جو ماحول دوست اقدامات میں ایک نمایاں کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔

دریائے سین میں 1923 سے تیراکی پر پابندی عائد کی گئی تھی، جب پانی میں بیکٹیریا کی زیادتی کے باعث اسے صحت کے لیے خطرناک قرار دیا گیا تھا۔

پیرس کی موجودہ میئر این ہدالگو (Anne Hidalgo) نے اس تاریخی موقع کو گرین پالیسیوں کی کامیابی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تیراکی کا خواب، جس پر شک کیا گیا، ہم نے پورا کر دکھایا۔ اولمپکس 2024 سے قبل پانی کو صاف کرنے کے لیے 1.

6 ارب ڈالر کی لاگت سے صفائی منصوبہ مکمل کیا گیا۔ ہدالگو نے خود بھی اولمپکس سے قبل دریائے سین میں تیراکی کرکے عوام کو یقین دلایا کہ پانی اب محفوظ اور صاف ہے۔

مزید پڑھیں: جمہوریہ چیک کے ٹھنڈے پانی میں تیراکی مقابلے، نیا ریکارڈ قائم

3 مخصوص مقامات کھول دیے گئے:

ایک ایفل ٹاور کے قریب
دوسرا نوترے دام کیتھیڈرل کے پاس
تیسرا مشرقی پیرس میں
ہر مقام پر لائف گارڈز، شاورز، چینجنگ رومز اور بیٹھنے کے انتظامات موجود ہیں۔

یہ منصوبہ 1988 میں سابق صدر ژاک شیراک کے دور سے زیر غور تھا، تاہم پانی کی ناقص کوالٹی کے باعث متعدد بار ملتوی کیا گیا، حتیٰ کہ 2012 میں ایک تیراکی مقابلہ بھی منسوخ کرنا پڑا تھا۔

پانی کی صفائی کا یہ اقدام ماحولیاتی بہتری، شہری سہولتوں اور پائیدار ترقی کی علامت بن چکا ہے، اور اب پیرس کے باسیوں اور سیاحوں کو شہر کے دل میں قدرتی پانی سے لطف اندوز ہونے کا نایاب موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

102 سال بعد ایفل ٹاور پیرس تیراکی دریائے سین

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: 102 سال بعد ایفل ٹاور پیرس تیراکی دریائے سین دریائے سین کیا گیا کے لیے

پڑھیں:

گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ

صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔

حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں