بھارت: کئی عالمی میڈیا اداروں کے ایکس ہینڈلز بلاک، پھر بحال
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 07 جولائی 2025ء) بھارت میں عالمی خبر رساں اداروں برطانیہ کے روئٹرز، ترکی کے ٹی آر ٹی ورلڈ، اور چین کے گلوبل ٹائمز نیوز کے ایکس ہینڈلز کو تقریباً 24 گھنٹے تک بلاک رکھنے کے بعد اتوار کو دیر رات بحال کر دیا گیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم نے انہیں بلاک کرتے وقت کہا تھا، ’’۔۔۔ قانونی مطالبے کے جواب میں انہیں بلاک کیا گیا ہے۔
‘‘بھارت میں پاکستان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر دوبارہ پابندی
اس کے بعد اپوزیشن رہنماؤں سمیت کئی لوگوں نے سوشل میڈیا پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے آزادی صحافت پر سوالیہ نشان قرار دیا ہے۔ بعض افراد نے اسے غیر اعلانیہ ایمرجنسی قرار دیا۔
بھارت کی انفارمیشن ٹکنالوجی کی وزارت کے ایک ترجمان نے کہا کہ ''ان اکاؤنٹس کو روکنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور وہ مسئلہ کو حل کرنے کے لیے ایکس کے ساتھ مسلسل کام کر رہے ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘بھارتی میڈیا نے تاہم وزارت کے ایک عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ روئٹرز کا ہینڈل ان اکاؤنٹس میں شامل تھا جن کو حکومت نے آپریشن سیندور کے دوران بلاک کرنے کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے کہا تھا۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان ’غلط معلومات کی جنگ‘ بدستور جاری
مذکورہ عہدیدار نے مزید بتایا،’’ایکس نے اس وقت حکم کی تعمیل نہیں کی اور حکومت نے بھی معاملہ کو آگے نہیں بڑھایا۔
‘‘ انہوں نے کہا کہ روئٹرز کے ایکس ہینڈل کو بلاک کردیا جانا ’’پہلے کی ہدایت کا تاخیر سے جواب‘‘ہے۔ بلاک کی وجہ آپریشن سیندورخیال رہے کہ آپریشن سیندور کے دوران، بھارتی حکومت نے ایکس کو غیر ملکی خبر رساں اداروں اور ممتاز شخصیات کے 8000 سے زیادہ اکاؤنٹس کو بلاک کرنے کے ایگزیکٹو آرڈر بھیجے تھے۔
وزارت کے ایک اور اہلکار نے تازہ ترین معاملے کے بارے میں کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ تکنیکی مسئلہ ہے۔
ان ہینڈلز کو بلاک کرنے کا عمل کئی پاکستانی مشہور شخصیات اور نیوز چینلز کے یوٹیوب اور انسٹاگرام اکاؤنٹس کو ایک دن کے لیے ’’ان بلاک‘‘ کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ جس کے متعلق حکام نے کہا تھا کہ ایسا ''تکنیکی خرابی‘‘ کی وجہ سے ہو گیا۔ بعد میں انہیں دوبارہ بلاک کر دیا گیا۔
ٹی آر ٹی ورلڈ اور گلوبل ٹائمز نیوز دونوں کے ایکس ہینڈلز کو بھارتی حکومت نے آپریشن سیندور کے دوران ’’بھارت مخالف مواد‘‘ کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران محدود کر دیا تھا، اور بعد میں بحال کر دیا گیا تھا، لیکن ہفتے کی رات انہیں دوبارہ بلاک کر دیا گیا۔
اقدام پر سخت نکتہ چینیترنمول کانگریس کے رکن پارلیمان مہوا موئترا نے عالمی میڈیا اداروں کے ایکس ہینڈلز کو بلاک کرنے پر حکومت کی مذمت کی ہے۔
انہوں نے ایکس پر لکھا، ’’حکومت نفرت پھیلانے والے لاکھوں اکاؤنٹس کو فروغ دیتی ہے لیکن ایک معزز بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کا اکاؤنٹ بند کر دیتی ہے۔ ان اقدامات کی وجہ سے بھارت دنیا میں مزید تنہا ہوتا جا رہا ہے۔
‘‘کانگریس لیڈر سپریہ شرینیت نے بھی حکومت پر سوال اٹھایا ہے۔
انہوں نے ایکس پر لکھا، ’’بھارت میں روئٹرز کا اکاؤنٹ کیوں بند کیا گیا؟ انہوں نے کیا کیا؟ کیا ہم ایسی جمہوریت ہیں جو معروف نیوز ایجنسیوں کو برداشت نہیں کر سکتے؟ اختلاف اور سوال کی ہر آواز کو کیوں دبایا جا رہا ہے؟ مودی حکومت دنیا کے سامنے بھارت کا مذاق کیوں بنا رہی ہے؟‘‘
سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ بہت سے عام لوگوں نے بھی اس اقدام پر ردعمل کا اظہار کیا۔
پون کے این نامی ایک صارف نے لکھا،’’معروف نیوز ایجنسیوں پر پابندی لگانا اختلاف رائے اور سوالات کو دباتا ہے، جس سے جمہوریت کمزور ہوتی ہے۔‘‘
گرومنیت سنگھ مانگت نے لکھا، ’’جب کوئی حکومت یہ فیصلہ کرنا شروع کر دیتی ہے کہ لوگ کیا پڑھ سکتے ہیں اور کیا نہیں، تو وہ حکومت نہیں رہتی، یہ آئین کے لیے خطرہ بن جاتی ہے۔‘‘
دریں اثنا ایک حکومتی اہلکار نے بتایا کہ حکومت نے ایکس کو ایک نوٹ بھیجا ہے جس میں سوشل میڈیا کمپنی سے بلاک کرنے کی وضاحت کرنے کو کہا گیا ہے۔
ادارت: صلاح الدین زین
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے ایکس ہینڈلز سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو کر دیا گیا بلاک کرنے ہینڈلز کو کے دوران انہوں نے حکومت نے بلاک کر کو بلاک نے ایکس کے ایک کے لیے
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔