پشاور:

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ ہم نے احتجاجی تحریک کب اور کہاں سے شروع ہوگی؟ دو دن میں پتا چل جائے گا پہلے سے نہیں بتائیں گے۔

یہ بات انہوں نے پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں ںے ورسک روڈ سے ناصر باغ تک ساڑھے آٹھ کلومیٹر طویل تین لینز پر مشتمل دو رویہ سڑک کے منصوبے کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا کہ ہماری تحریک بہت وقت سے شروع ہے، اب دوباہ تحریک کا فیصلہ کیا ہے، دو دن میں پتا چل جائے گا کہ کیا ہوگا، پہلے سے تحریک کا نہیں بتاتے ورنہ مخالفین فائدہ اٹھاتے ہیں۔

انہوں ںے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے فی الحال کسی جگہ کا نہیں بتایا کہ کس جگہ احتجاج کریں گے، جگہ کا لائحہ  عمل ہم بتائیں گے۔

علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کے حلف کے لئے گورنر ہاؤس گیا تھا میں کوئی  خفیہ ملاقات نہیں کرتا، فلاسفر بیٹھ کر تصویر پر تہمت لگاتے ہیں بغیر تحقیق الزام لگانا گناہ ہے۔

دریں اثنا وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے بدھ کے روز منصوبے کا باضابطہ سنگ بنیاد رکھا۔ منصوبے کے مطابق ورسک روڈ سے ناصر باغ تک ساڑھے آٹھ کلومیٹر طویل تین لینز پر مشتمل دو رویہ سڑک تعمیر کی جائے گی، جس پر مجموعی طور پر ساڑھے نو ارب روپے لاگت آئے گی۔ سڑک کی تعمیر چار مختلف پیکجز میں مکمل کی جائے گی، جبکہ تین پل اور تین انڈر پاسز بھی تعمیر کیے جائیں گے۔ منصوبے کو یونیورسٹی روڈ کے ساتھ دو مقامات پر جوڑا جائے گا تاکہ یہ روڈ ایک متبادل راستے کے طور پر کام کرے۔

وزیراعلیٰ نے سنگ بنیاد پر خطاب میں کہا کہ پشاور میں ٹریفک کے مسائل کو حل کرنے اور شہریوں کو اس سلسلے میں سہولت کی فراہمی کےلئے ایک اہم اقدام کے طورپر رنگ روڈ کے ناردرن سیکشن کی تعمیر کے منصوبے پر کام کا آغاز کردیا گیا، اس سڑک کی تکمیل سے یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک کے دباؤ میں 50 فیصد تک کمی آئے گی اور شہریوں کو روزمرہ آمدورفت میں آسانی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ رنگ روڈ کے اس مسنگ لنک کی تعمیر نہایت ضروری تھی مگر ماضی میں اسے بروقت شروع نہیں کیا گیا، ہم نے اب اس دیرینہ منصوبے پر کام شروع کر دیا ہے اور ایک سال کے اندر یہ منصوبہ مکمل کیا جائےگا، مزید برآں پشاور میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے کےلئے رنگ روڈ اور یونیورسٹی روڈ پر انڈر پاسز بھی تعمیر کیے جائیں گے۔

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ پشاور ہمارا دل ہے، مگر ماضی میں اسے وہ توجہ نہیں دی گئی جو دی جانی چاہئے تھی، موجودہ حکومت نے پشاور کےلئے بجٹ میں خصوصی پیکج شامل کیا ہے تاکہ اسے حقیقی معنوں میں پھولوں کا شہر بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے پچھلے مالی سال کے دوران 411 منصوبے مکمل کیے، ساڑھے تیرہ سالہ ترقیاتی تھرو فارورڈ کو کم کر کے جاری منصوبوں کو مکمل فنڈنگ فراہم کی گئی۔ ہماری حکومت کا مقابلہ گزشتہ چار حکومتوں کے ترقیاتی منصوبوں سے ہے، رواں دور حکومت میں اتنے ترقیاتی کام کئے جائیں گے جتنے گزشتہ چار اداوار میں بھی نہیں ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال میں 130 ارب روپے جاری منصوبوں کی تکمیل کےلئے مختص کیے گئے ہیں اور مزید 50 ارب روپے کی اے ڈی پی پلس فراہم کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ جب انہوں نے حکومت سنبھالی تو خزانے میں صرف اٹھارہ دن کی تنخواہوں کےلئے فنڈز موجود تھے، مگر عمران خان کی سوچ کے مطابق صوبے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کےلئے دن رات کام کیا۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں ایسے بھی اضلاع ہیں جہاں ڈی ایچ کیو اسپتال تک نہیں، دل کے امراض کے علاج کے لیے پورے صوبے میں صرف ایک اسپتال ہے جس پر پورے صوبے کا بوجھ ہے، رواں مالی سال میں دو ریجنز میں کارڈیک سینٹرز قائم کیے جائیں گے جس کے بعد ہر ریجن اور ڈویژن کی سطح پر دل کے امراض کے مراکز قائم کیے جائیں گے۔ اسی طرح اعلیٰ تعلیم کے فروغ کےلئے گزشتہ سال 30 کالج کرایہ کی عمارتوں میں شروع کیے گئے جبکہ رواں سال مزید 30 کالج قائم کیے جائیں گے تاکہ ہر حلقے میں تعلیم کی سہولت میسر ہو۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ کیے جائیں گے علی امین جائے گا

پڑھیں:

عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران

پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟

وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔

سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔

مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟

رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔

سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔

سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔

مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ

متعلقہ مضامین

  • آبنائے ہرمز اور باب المندب کا متبادل تیار کرنے میں دہائیاں لگیں گی، عرب ماہر
  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  • ’میمز‘ سے انقلاب؟ سی جے پی احتجاج میں جین زی کا نیا انداز
  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم