توانائی پالیسیاں معیشت کوتباہی کی طرف لے جا رہی ہیں
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(بزنس رپورٹر) کمپٹیشن کمیشن نے چینی کی قیمتوں کے تعین میں مبینہ گٹھ جوڑ کے کیس کی سماعت کے لیے تاریخیں مقرر کرتے ہوئے پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن اور اس کی رکن ملوں کو نوٹس جاری کردیے ہیں۔ کمیشن نے شوگر کارٹلائزیشن کے کیس میں سماعتیں 4، 5 ، 6 اور 7 اگست کے لیے مقرر کی گئیں ہیں اور فریقین کو سماعتوں کے لیے اپنے نمائندگان نامزد کرنے کی ہدایت کی ہے، جو مقررہ تاریخوں کو متعلقہ شواہد اور دستاویزات کے ہمراہ کمیشن میں اپنی دستیابی یقینی بنائیں۔قبل ازیں مئی میں، کمپٹیشن ایپلٹ ٹربیونل نے 44 ارب روپے کے جرمانے کے خلاف شوگر ملوں اور ایسوسی ایشن کی دائر اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے مقدمہ دوبارہ سماعت کے لیے کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان کو واپس بھجوا دیا تھا۔ ٹربیونل نے ہدایت کی تھی کہ یہ مقدمہ دوبارہ کمپٹیشن کمیشن کے چیئرپرسن یا کسی ایسے رکن کی سربراہی میں سنا جائے جو کہ پہلے ان سماعتوں میں شامل نہ رہے ہوں۔ ٹربیونل نے اپنے فیصلے میں کمیشن کو دوبارہ سماعت مکمل کر کے 90 دن میں فیصلہ جاری کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔واضح رہے کہ 2021 میں کمپٹیشن کمشین نے شوگر ملز ایسوسی ائیشن اور شوگر ملوں کو کارٹل بناکر چینی کی قیمتوں کو فکس کرنے اور دیگر غیرمسابقتی سرگرمیوں میں ملوث پائے جانے پر انہیں 44 ارب روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔ بعد ازاں، شوگر ملز ایسوسی ائیشن اور اس کی ممبر ملوں نے اس فیصلے کو ٹربیونل میں چیلنچ کر دیا تھا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ کمیشن کے چار رکنی بینچ کی رائے دو، دو سے تقسیم تھی، تاہم اس وقت کی چیئرپرسن نے فیصلہ میں تعطل ختم کرنے کے لیے کاسٹنگ ووٹ استعمال کرتے ہوئے فیصلے کو اکثریتی رائے میں تبدیل کر دیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
اسلام آباد، وزیراعظم شہباز شریف(shahbaz shrif) نے ملکی معیشت کی پائیدارترقی کیلئے صنعت وپیداوار کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر قرار دیا ہے۔ کہا برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات حکومت پالیسی ترجیحات کا حصہ ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ملکی معیشت پر اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اوربہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح پر مرکوز ہونا چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں:مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
وزیراعظم نے مختلف شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کی شمولیت کے لئے تمام وزارتوں اور ماہرین کو بامعنی مشاورت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔