وفاقی حکومت اور آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے درمیان کاٹن سیس وصولی کا معاہدہ طے
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
سٹی 42 : وفاقی حکومت اور آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے درمیان کاٹن سیس وصولی کا معاہدہ طے پا گیا۔
اپٹما پاکستان سینٹرل کاٹن کمیٹی اور وزارت فوڈ سیکیورٹی نے معاہدے پر دستخط کر دیے، معاہدے پر وزیر غذائی تحفظ اور چیئرمین اپٹما کامران ارشد نے دستخط کیے۔ اس کے علاوہ چیئرمین اپٹما نارتھ اسد شفیع اور چیئرمین کاٹن کمیٹی نے بھی معاہدے پر دستخط کیے۔
معاہدے کے مطابق ٹیکسٹائل ملز حکومت کو کاٹن سیس کی مد میں ایک ارب 50 کروڑ روپے کی ادائیگی کریں گی، کاٹن سیس 4 اقساط میں ادا کیا جائے گا۔ اپٹما ٹیکسٹائل ملز کا ڈیٹا کاٹن کمیٹی کو فراہم کرے گی، اپٹما تمام ٹیکسٹائل ملز کے ساتھ تنازع کو حل کرے گی، اپٹما کاٹن سیس کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنائے گی، تاخیر سے کاٹن سیس ادائیگی پر 5 فیصد جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
اسحاق ڈار کی آسٹریلیا کی وزیرِ خارجہ سے ملاقات, اعلیٰ سطحی سیاسی روابط بڑھانے پر اتفاق
چیئرمین اپٹما کامران ارشد نے کہا کہ حکومت کپاس کی فصل کی بحالی کے لیے پالیسی اقدامات اٹھا رہی ہے، کپاس کی بیج کی درآمد کے اقدامات کیے جا رہے ہیں، کپاس کی قلت کے باعث ٹیکسٹائل سیکٹر متاثر ہوا ہے، کپاس کی فصل سے لاکھوں کسانوں کا روزگار وابستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری اربوں ڈالر کی کاٹن امپورٹ کرنے پر مجبور ہے،امید ہے اس معاہدے سے حالات بہتر ہوں گے اور زرمبادلہ کی بچت ہوگی۔
کامران ٹیسوری کا اداکارہ حمیرا اصغر کی تدفین کا اعلان، جنازہ گورنر ہاؤس میں ہوگا
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ٹیکسٹائل ملز کاٹن سیس کپاس کی
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔