چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی حکومت کا حصہ نہیں اور نہ ہی وہ حکومت کے ترجمان ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ حکومت میں شمولیت یا انکار کا فیصلہ پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکیٹیو کمیٹی یعنی سی ای سی کرے گی۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے صدر مملکت کی تبدیلی اور صحت کے حوالے سے تمام افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کوئی ہٹایانہیں جارہا۔ ’صدر مملکت کی تبدیلی یا ان کی صحت سے متعلق صرف افواہیں ہیں، پنجاب میں نئے شہریوں سے متعلق سینٹرل ایگزیکیٹیو کمیٹی نے فیصلہ کرنا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیں:

چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ حکومت میں شمولیت پرابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ ’پیپلزپارٹی کی سی ای سی ہی حکومت میں جانے نہ جانےکافیصلہ کرسکتی ہے، حکومت میں نہ جانےکافیصلہ پیپلزپارٹی کی سی ای سی نےکیاتھا، اگر سی ای سی فیصلہ کرے تو حکومت میں شامل ہوں گے۔‘

واضح رہے کہ کراچی کی وفاقی اینٹی کرپشن عدالت نے تریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان یعنی ٹی ڈاپ سے جڑے میگا کرپشن کیس میں نامزد چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی 9 مقدمات سے بری کردیا، ایف آئی اے نے ٹی ڈاپ کیس میں مجموعی طور پر 26 مقدمات درج کیے تھے، یوسف رضا گیلانی پہلے ہی 3 مقدمات سے بری ہو چکے تھے

مزید پڑھیں:

میڈیا سے گفتگو میں یوسف رضاگیلانی نے ٹی ڈاپ کرپشن کیس میں انصاف کی تاخیر کو انصاف سے انکار کے مترادف قرار دیا، انہوں نے بتایا کہ 12 برس سے کیس چل رہا تھا، جو پہلے طالبہ تھیں آج بطور پروسیکیوٹر پیش ہوئیں، یوسف رضا گیلانی کو 2015 میں مقدمات کے حتمی چالان میں بطور ملزم نامزد کیا گیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ٹی ڈاپ چیئرمین سینیٹ یوست رضا گیلانی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: چیئرمین سینیٹ یوست رضا گیلانی یوسف رضا گیلانی چیئرمین سینیٹ حکومت میں سی ای سی

پڑھیں:

عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے

حکومت نے بازار اور دکانیں بند کرنے کے اوقاف کار(business hours) تبدیل کر دئیے ۔دکانوں اور کاروباری مراکز کے بند ہونے کے اوقات میں توسیع کا فیصلہ ۔

اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس کمیٹی نے جاری کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا نئے اوقات کے مطابق دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رہیں گے۔

ریسٹورنٹس اور کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے ہونگے ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز ان اوقات سے مستثنیٰ ہوں گیشادی ہالز اور تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک ہی کھلے ہونگے۔

مزید پڑھیں:اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات

فارمیسی، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ادارے مستثنیٰ ہونگے صوبائی حکومتیں وفاق کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں، کمیٹی کی ہدایت

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ