حفیظ سنٹر پلازہ شارٹ سرکٹ سے آگ بھڑک اٹھی، کروڑوں کا نقصان
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
لاہور (نامہ نگار) گلبرگ کے علاقے میں واقع معروف پلازے حفیظ سنٹر کے بیسمنٹ میں شارٹ سرکٹ کے باعث آگ بھڑک اٹھی۔ آتشزدگی کی وجہ سے کروڑوں روپے مالیت کا نقصان ہوا ہے۔ 1122 کے عملے نے آگ پر قابو پا لیا۔ حفیظ سنٹر پلازہ میں داخلی راستوں پر پولیس اہلکار تعینات کر دئیے گئے۔ آتشزدگی سے ہونے والے نقصان کی مالیت کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔ آگ نے پلازے کے تین منزلوں کے ایک حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ علاوہ ازیں تہہ خانے میں متاثرہ دکانوں کے تاجر دکانوں سے اپنا سامان نکالنے کی کوشش کرتے نظر آئے جبکہ پولیس انہیں بیسمنٹ میں جانے سے روکتی رہی۔ بعض تاجر اپنے نقصان پر روتے رہے۔ سینئر تاجر رہنماشیخ فیاض نے کہا آگ کے باعث کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی جبکہ دھویں سے دکانوں میں کمپیوٹرز، لیب ٹاپ اور فون متاثر ہوئے ہیں۔ بیسمنٹ میں موجود گاڑیاں بچ گئیں، تاہم چند موٹرسائیکلوں کو نقصان پہنچا۔ دریں اثناء سیکرٹری ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر رضوان نصیر نے دوران آپریشن جائے حادثہ کا دورہ کیا اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آگ پلازہ کی بیسمنٹ میں شارٹ سرکٹ کے باعث لگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔